بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
(1)
فخرِ-ملک-و-اشرف-و-آدم ہے محمد
اکلیلِ-سرِ-عرشِ-معظم ہے محمد
حقا کہ خداوندِ-دو-عالم ہے محمد
آخِر ہے مگر سب سے مقدم ہے محمد
ایسا کوئی محرم نہیں اسرارِ-اہَد کا
حال اس سے ہے پوشیدہ ازل کا نہ ابد کا
(2)
مختارِ-زمین باعثِ-افلاک نبی ہے
والا گوہرِ-قلزم-و-لولاک نبی ہے
مصباحِ-حریمِ-حرمِ-پاک نبی ہے
شیرازۂ-مجموعہ اور ایک نبی ہے
عالم میں وہ آیا تھا پہ دل سوئے خدا تھا
حق اس کا رضا جو وہ رضا جوئے خدا تھا
(3)
آدم ہے وجودِ-شہِ-لولاک سے عوام
عالم سب اسی شاہ کی ہستی سے ہے عالم
سر رشتہ-e-ہر اس کا اگر ہوتا نہ محکم
تو ہوتے نہ اژدرِ-عناصر کبھی باہم
کیا کیا کہوں کیا کیا ہیں عنایاتِ-محمد
ہے باعثِ-ایجادِ-جہاں ذاتِ-محمد
(4)
وہ پیش رو-قیلِ-رسولانِ-سلف ہے
آدم کو اسی نورِ-الہٰی سے شرف ہے
یہ درِّ-یتیم اور وہ پاکیزہ صدف ہے
کرتا ہے پدر مخنزِ-شانِ-خلف ہے
پیمبرِ-برحق کی ہو کیا نعت کسی سے
خالق کو مباہات ہے ایجادِ-نبی سے
(5)
جز ذاتِ-خدا سب پہ محمد کے ہے احسان
اس شاہ کے ہے خوانِ-کرم پر سبھی مہمان
وہ اصل ہے اور فرع ہے سب عالمِ-امکان
تھا خلقِ-دو-عالم سے وہی مقصدِ-یزداں
باطن میں بھی فیض اس کا ہے ظاہر بھی وہی ہے
اول بھی سبھوں سے وہی آخر بھی وہی ہے
(6)
معراج سے جو اس کو ملا رتبۂ-اعلیٰ
یہ رتبہ کسی اور پیمبر نے نہ پایا
اللہ سے جو قربِ-محمد تھا کہوں کیا
قوسین کا ہے فرق جہاں رتبۂ-ادنیٰ
جبریلِ-امین کو بھی نہ واں دخل کی جا تھی
یا احمدِ-مختار تھے یا ذاتِ-خدا تھی
(7)
اس نور کو دو حصے کیا حق نے برابر
اور پھر کیے ہر حصے کے دو حصے مقرر
دو ٹکڑوں سے مخلوق ہوئے احمد-و-حیدر
پیدا ہوئے دو حصوں سے سبطینِ-پیمبر
زہرا کو پھر اس نور سے تنہا کیا پید
ا
یوں پنجتنِ-پاک کا نقشہ کیا پیدا
(8)
اللہ نے دی تھی اسے کونین کی شاہی
امی تھے یہ تھا دل میں بھرا رازِ-الہٰی
دی سنگ نے اس شاہ کی رسالت پہ گواہی
اشجار بھی اعجاز سے اس کے ہوئے راہی
دی مردوں کو جاں سبز کیا خشک شجر کو
دو کر دیا انگلی کے اشارے سے قمر کو
(9)
بے سایہ جو مشہور وہ سلطانِ-عرب ہے
پیشِ-عقلا وجہ یہ ہے اور یہ سبب ہے
ہے کون عدیل اس کا کہ وہ سایۂ-رب ہے
دنیا میں کسی سائے کا سایہ کہو کب ہے
ہے دوسری یہ وجہ کہ وہ جانِ-جہاں تھا
بے سایہ ہے یہ جان کی طرح سایہ کہاں تھا
(10)
پہلے کیا اللہ نے جس چیز کو پیدا
لکھا ہے کہ وہ نورِ-جنابِ-نبوی تھا
دس سو برس اس دن سے وہ نورِ-شہِ-والا
استادہ رہا رو بہ رو-e-خالقِ-یکتا
گہ حمد-و-ثنا گہ صفتِ-قدرتِ-حق تھی
اس نور پہ ہر دم نظرِ-رحمتِ-حق تھی
(11)
اس نور سے فرماتا تھا یہ حضرتِ-معبود
ہے خلق سے تو میری مراد اور میرا مقصود
عزت کی قسم اپنی جو تو ہوتا نہ موجود
تو رہتی بنا عالمِ-ایجاد کی نابود
پیدا کبھی کرتا نہ زمیں کو نہ فلک کو
دوزخ کو نہ جنت کو نہ آدم نہ ملک کو
(12)
جو تیرا محب ہے ہمیں اس سے ہے محبت
جو تیرا عدو ہے ہمیں اس سے ہے عداوت
دی ہم نے تجھے سارے رسولوں سے فضیلت
ہر ایک کی امت سے ہے بہتر تیری امت
نایاب کسی مرسل کا نہیں تیرے وصی سا
بیٹی تجھے دی فاطمہ سی خویش علی سا
(13)
سبطین وہ بخشے تجھے جو ہم کو ہیں پیارے
ہم ان کے رضا جو وہ رضا جو ہیں ہمارے
ہیں عرشِ-معلیٰ کے وہ تابندہ ستارے
بخشائیں گے امت کے میرے جرم وہ سارے
جو مرتبے تیرے ہیں وہ اوروں کے کہاں ہیں
وہ ختمِ-رسل ہے وہ شفیعِ-دو-جہاں ہیں
(14)
ایک بار یہ سن کر سخنِ-خالقِ-اکرم
سجدے کے لیے جھک گیا وہ نورِ-مجسم
بالا کیا سجدے سے سرِ-پاک کو جس دم
پیشانی سے تب نور کے قطرے گرے پیہم
اس نور کے قطرو ں سے پیمبر ہوئے پیدا
دریا-e-نبوت سے یہ گوہر ہوئے پیدا
(15)
ان سب سے جنابِ-اہدی نے یہ ندا کی
پہچانتے ہو منزلت-و-قدرت کو میری
پہلے سبھوں سے نورِ-محمد نے صدا دی
لاریب ہے تو خالق-و-معبودِ-حقیقی
سجدہ تجھے واجب ہے کہ تجھ سا نہیں کوئی
تو رب ہے ہمارا تیرا ہمتا نہیں کوئی
(16)
تب کرسی-و-لوح-و-قلم-و-عرشِ-معلیٰ
نجوم-و-ماہ-و-مہر-و-ملک-و-گنبِدِ-خضرا
شام-و-سحر-و-ضیاء-و-جنت-و-دنیا
اللہ نے سب نورِ-نبی سے کیے پیدا
حق یہ ہے کہ باعث ہے وہ عالم کی بنا کا
کیا رتبہ ہے کیا فیض ہے محبوبِ-خدا کا
(17)
انسان سے بھلا ہو سکے ایسوں کی ثنا قد
ایک نورِ-محمد سے ہے یہ تا بہ محمد
واللہ علی سے ہے علی تک سبھی امجد
بعد ایک کے ایک ان میں سے ہے صاحبِ-مسند
سمجھے نہ کوئی یہ کہ محمد سے جدا ہے
ایک سیب کے ٹکڑے میں یہ سب نورِ-خدا ہے
(18)
آدم کو کیا فوجِ-ملائک نے جو سجدہ
یہ نورِ-محمد کا فقط پاسِ-ادب تھا
ہے یوسفِ-یعقوب کے جو حسن کا شہرا
تھا واں بھی فقط نورِ-محمد کا ہی جلوہ
ایک صاعقہ گرتے ہوئے جو دور سے دیکھا
موسیٰ نے اسی نور کو تھا طور سے دیکھا
(19)
یہ ظلم ہوا کون سے مرسل کے حرم پر
گھر جل گیا چھینا گیا کس کا زر-و-زیور
اور کس کی نواسی پھری بلوے میں کھلے سر
تا شام گئی راہ میں بے مقنعہ-و-چادر
اس پر بھی رہائی نہ ملی رنج-و-مہن سے
گردن کو جو کھولا تو بندھے ہاتھ رسن سے
(20)
بیٹی کو کہو کون سے مرسل کی ستایا
کس کے شکمِ-پاک پہ دروازہ گرایا
داماد کا حق کون سے مرسل کے مٹایا
گردن میں رسن باندھ کے کس کو ہے پھرایا
مقتول کہو! کس کا نواسہ ہوا سم سے
کس پیاسے کا کاٹا ہے گلا تیغِ-ستم سے
(21)
اللہ نے رتبے تو محمد کو یہ بخشے
ہیں سارے رسولوں سے زیادہ شرف ان کے
ہر چند کہ سب موردِ-آفت-و-بلا تھے
پر ایسے مصائب بھی کسی نے نہیں دیکھے
کیا کیا نہ دیے رنج انہیں اہل نا جفا نے
آرام نہ پایا کبھی محبوبِ-خدا نے
(22)
حق یہ ہے کہ ہوتی ہے جسے حق سے محبت
سہتے ہیں وہ درد-و-الم-و-رنج-و-مصیبت
نیکوں کے لیے خلق میں کیا کیا ہے اذیت
منہ پر ہے کھلا ان کے درِ-محنت-و-حسرت
خاصانِ-خدا مسکنِ-جور-و-جفا ہیں
اربابِ-ولا جو ہیں وہ پابندِ-بلا ہیں
(23)
پہلے تو مصیبت یہ ہے شاہِ-دوسرا کی
تھے بطن میں مادر کے، کہ والد نے قضا کی
جس دم 6 برس کے ہوئے قدرت سے خدا کی
مادر نے بھی لی راہِ-گلستانِ-بقا کی
وہ صدمے ہوئے درِّ-یتیمی کے جگر پر
دادا کے سوا کوئی نہ باقی رہا سر پر
(24)
بن باپ کے فرزند کا تھا پالنا مشکل
دادا رہا ہر عمر میں پوتے کا مکفل
جب 8 برس کا ہوا وہ سرورِ-عادل
دادا کو بھی درپیش ہوئی گور کی منزل
پھر راہ تو آرام کی صورت کہو کیا تھی
تنہائی کی آفت تھی یتیمی کی بلا تھی
(25)
جز ذاتِ-خدا کوئی نہ تھا یار-و-مددگار
مادر نہ تھی جو چھاتی سے لپٹا کے کرے پیار
بابا کا تو دیکھا بھی نہ تھا آپ نے دیدار
رو دیتے تھے دادا کے لیے دن میں کئی بار
بیکس پہ عجب حادثہ طفلی میں پڑا تھا
آنسو بھی کوئی پونچھنے والا نہ رہا تھا
(26)
وہ صغرِ-سن اور آہ وہ تنہائی کی آفت
تھا ایک دلِ-نازک پہ وہ محوِ-غم-و-محنت
کفار سے رہتا تھا زبس خوفِ-اذیت
چھپ چھپ کے کیا کرتے تھے خالق کی عبادت
مظلوم کی طاعت کی ثنا کرتے تھے قدسی
احمد کی یتیمی پہ بکا کرتے تھے قدسی
(27)
کرتا تھا فرشتوں کو ندا خالقِ-اکبر
محبوب میرا گرچہ ہے بے والد-و-مادر
ہر آن حفاظت کے لیے میں تو ہوں سر پر
بھیجو صلوٰۃ اور سلام اس پر مقرر
حاجت ہے محمد کو نہ مادر نہ پدر کی
ہوتی ہے یتیمی سے فزوں قدر-و-گہر کی
(28)
خالق کو یہ توحید تھی جس شاہ کی منظور
40 برس ان کو ستاتے رہے مقہور
جب حق نے کیا دعوتِ-اسلام پہ مامور
بس دشمنِ-جاں ہو گئے سب کافر-و-مغرور
راحت نہ ملی بادشہِ-جن-و-بشر کو
ہر ایک نے کسا قتلِ-محمد پہ کمر کو
(29)
جن لوگوں سے فرماتے تھے یہ احمدِ-مختار
اے قوم نہ اصنام کو سجدہ کرو زنھار
جز حق کے نہیں کوئی پرستش کا سزاوار
قائل ہو خدا کے کلمے کا کرو اقرار
وہ کہتے تھے ساحر ہے جواب اس کا نہ دو تم
کذاب ہے کاذب کی نصیحت نہ سنو تم
(30)
تھا خار کوئی راہ میں اس گل کے بچھاتا
اور سنگ دلی سے کوئی پتھر تھا لگاتا
دانا-زماں کو کوئی دیوانہ بناتا
اس چاند پہ کوٹھے سے کوئی خاک گراتا
پر خون نظر آتا تھا سر-و-رو-مبارک
پھر جاتے تھے سب خاک میں گیسو-مبارک
(31)
کفارِ-قریش آپ کے تھے در پئے ایذا
دو بار باہم ہو کے سبھوں نے کیا نرغہ
گردن میں ردا ڈال کے اس زور سے کھینچا
جو صدمے سے دم گھٹ گیا محبوبِ-خدا کا
یاں تک تو عداوت تھی ابو جہلِ-لعین کو
مجروح کیا سنگ سے حضرت کی جبین کو
(32)
تنگ آ کے اس شاہ نے کی کعبے سے ہجرت
تو بھی نہ ملی ہاتھ سے ملعونوں کے راحت
ہشتاد-و-سی بار ان سے لڑے اہل نا شقاوت
منظور تھا کر دیجیے گل شمعِ-رسالت
بے دینوں نے کی سخت بدی شاہِ-امم سے
توڑا درِّ-دندانِ-نبی سنگِ-ستم سے
(33)
جس شمع کی ہو روشنی اللہ کو منظور
ہوتا ہے فروغ اس کا زمانے سے کہیں دور
جوں جوں ہوئے جو پائے رواں ان کے وہ مقہور
ہوتا گیا خورشیدِ-ہدایت کا فزوں طور
پانی جو دیا آبِ-دمِ-تیغِ-علی نے
سرسبز کیا گلشنِ-اسلام نبی نے
(34)
جس وقت ہوا کفر-و-ضلالت سے جہاں پاک
اور دور ہوا گلشنِ-دیں سے خس-و-خاشاک
رونے کی ہے جاں سینے میں ہوتا ہے جگر چاک
بیمار مدینے میں ہوئے سیدِ-لولاک
ایک بار قضا آ گئی ہستی کے چمن میں
طاقت نہ رہی بیٹھنے اٹھنے کی بدن میں
(35)
تھی شدتِ-تب دم پہ دم اور ضعف تھا طاری
تھے فاطمہ کے حال پہ اشک آنکھوں سے جاری
چھاتی سے لگا بیٹی کو با گریہ-و-زاری
فرماتے تھے میں تجھ پہ فدا اے میری پیاری
اٹھنا میرا دنیا سے تیرے حق میں ستم ہے
دشمن تجھے دکھ دیں گے جو غم ہے تو یہ غم ہے
(36)
حیدر کو کبھی دیکھ کے پاس اپنے بلاتے
کس پیار سے داماد کو چھاتی سے لگاتے
پہلو میں کبھی دونوں نواسوں کو بٹھاتے
کچھ سوچ کے منہ چومتے اور اشک بہاتے
فرماتے تھے دونوں پہ فدا جانِ-محمد
سپردِ-مردہ ابھی سے ہے یہ ریحانِ-محمد
(37)
افسوس میرے بعد ستم ہووے گا ان پر
سخت مصیبت میں پڑیں گے میرے دلبر
مظلوم پہ کچھ رحم نہ کھائیں گے ستمگر
آرام جہاں میں نہ ملے گا انہیں دم بھر
ناچار انہیں چھوڑتا ہوں امتِ-بد میں
ان کے لیے تڑپے گی میری روح لحد میں
(38)
چھاتی پہ انہیں کون سلائے گا میرے بعد
کاندھے پہ انہیں کون چڑھائے گا میرے بعد
کون ان کے بھلا ناز اٹھائے گا میرے بعد
روئیں گے پہ چین ان کو نہ آوے گا میرے بعد
ماں باپ کو تو ہوش نہ ہوگا میرے غم میں
کون ان کی خبر لےوے گا اس درد-و-الم میں
(39)
یہ کہتے تھے اور تھی مرض الموت کی شدت
تھی بسترِ-آزار سے اٹھنے کی نہ طاقت
فرمایا ہوئی گھر میں جو اصحاب کی کثرت
نزدیک ہے اب دارِ-فنا سے میری رحلت
اندیشے کی جگہ ہے یہ عبرت کا محل ہے
جو زندہ ہے ایک دن اسے درپیش اجل ہے
(40)
تم سے یہ وصیت ہے کہ حق سے نہ گزرنا
جو سنت-و-واجب ہو خلاف اس کے نہ کرنا
ہر دم غضبِ-حضرتِ-معبود سے ڈرنا
زنھار قدم راہِ-ضلالت میں نہ دھرنا
واللہ فوائد ہیں بڑے حق کی رضا میں
مرتد ہے کرے گا جو خلل حکمِ-خدا میں
(41)
تم پاس ہوں میں چھوڑتا دو امرِ-عظیم اب
قرآن ہے اور عترتِ-اطہار میری سب
ناجی ہے وہ ان دونوں سے رکھے گا جو مطلب
جو ہوگا خلاف ان سے نہ بخشے گا اسے رب
ان میں سے ہر ایک مصحفِ-ایمان کا ورق ہے
تابع ہو ان کے یہ رضامندیِ-حق ہے
(42)
واللہ اگر ان کی رضامندی ہے درکار
تم ان سے خصومت نہ کبھی کیجو خبردار
آزار مجھے دو گے جو دو گے انہیں آزار
دونو یہ جدا مجھ سے نہیں ہوویں گے زنھار
میں ساتھ تمہارے ہوں جو ساتھ ان کے رہو گے
مجھ سے اسی تقریب سے کوثر پہ ملو گے
(43)
پھریو کہاں حیدر کی طرف کر کے اشارہ
خاموش ہوں میں اس کا کہ خدا کا ہے یہ پیارا
واللہ میرے بعد یہ رہبر ہے تمہارا
رنج اس کو کوئی دے یہ نہیں مجھ کو گوارا
سمجھے نہ وصی جو اسے باعث ہے وہ شر کا
مختار ہے یہ احمدِ-مختار کے گھر کا
(44)
بھائی بھی یہ میرا ہے وصی بھی ہے یہ میرا
ایک نور سے میں اور یہ ہوا خلق میں پیدا
جو دین ہے مجھ پر یہ ادا اس کو کرے گا
جو وعدے ہیں میرے یہ کرے گا انہیں ایفا
یہ واقفِ-گنجینۂ-اسرارِ-نہاں ہے
یہ حجتِ-حق ہے یہ امامِ-دو-جہاں ہے
(45)
جو دوست ہے اس کا وہ میرا دوست ہے واللہ
دشمن ہے جو اس کا میرا دشمن ہے وہ گمراہ
رتبے سے علی کے میں تمہیں کرتا ہوں آگاہ
جو اس سے باغی ہووے گا کافر ہے وہ بدخواہ
جس کو کہ یقین اس کی امامت کا نہیں ہے
قائل وہ محمد کی رسالت کا نہیں ہے
(46)
جو حکم علی کا ہے وہی حکمِ-خدا ہے
نہی اس کی جو ہے نہیِ-رسولِ-دوسرا ہے
جو کام یہ کرتا ہے مناسب ہے بجا ہے
ناحق کوئی حق اس کا جو چھین لے تو خطا ہے
میں دشمنِ-حیدر پہ رعایت نہ کروں گا
محشر میں کبھی اس کی شفاعت نہ کروں گا
(47)
یہ وہ ہے رہا راہِ-خدا میں جو مجاہد
یہ سابق الاسلام ہے یہ عابد-و-زاہد
پیدا ہوا جب خلق میں اس کا ہوں میں شاہد
سجدہ نہ کیا اور کو جز خالقِ-واحد
ایک عشق ازل سے ہے اسے ذاتِ-خدا سے
ہم نامِ-خدا ہے یہ عنایاتِ-خدا سے
(48)
بیشک حق-و-باطل کو جدا اس نے کیا ہے
کعبے میں قدم مہرِ-نبوت پہ دھرا ہے
یہ صاحبِ-لولاک کے کاندھے پہ چڑھا ہے
خالق نے اسے رتبۂ-معراج دیا ہے
یہ جرم گنہگاروں کا بخشائے گا رب سے
ہوگی میری امت کی نجات اس کے سبب سے
(49)
زوجہ اسے زہرا سی ہے خالق نے عطا کی
وہ میرا کلیجہ ہے تو یہ جان ہے میری
ہے گو کہ وہ مخدومۂ-عالم میری بیٹی
میں کرتا ہوں تعظیم یہ اس کی ہے بزرگی
اس نورِ-نظارے پہ یہ میرے حق کا کرم ہے
باخاطرِ-چلی عرش پہ نام اس کا رقم ہے
(50)
واللہ ستانا میری بیٹی کو زبوں ہیں
وہ مریم-و-حوا سے بھی رتبے میں فزوں ہیں
تسلیم کو اس کی فلکِ-پیر نگوں ہیں
وہ پارۂ-تن ہے میرا اور یہ میرا خوں ہیں
جو بعد میرے نیک سلوک اس سے کرے گا
میں قبر میں آؤں گا وہ جس روز مرے گا
(51)
شاد اس کو کیا جس نے مجھے اس نے کیا شاد
بیداد ہوئی اس پہ تو مجھ پر ہوئی بیداد
سمجھاتا ہوں حجت سے اسے دل میں رکھو یاد
برباد ہوا میں جو ہوئی فاطمہ برباد
جس شخص سے زہرا کا نہ کچھ زور چلے گا
وہ تا بہ ابد آتشِ-دوزخ میں جلے گا
(52)
تم سب میری بیٹی کی تو عزت سے ہو آگاہ
وہ فاقہ کشی-و-بکسی-و-مظلوم واللہ
زوج اس کا ہے اقلیمِ-امامت کا شہنشاہ
پر دولتِ-دنیا سے ہے ان دونوں کو اکراہ
جز حق کے کسی سے نہیں کچھ کہتے ہیں دونوں
ایک بورئیے پہ فاقے سے سو رہتے ہیں دونوں
(53)
بچوں کا ہے ساتھ اور بضاعت ہے بہت کم
مایہ نہیں کچھ گھر میں خدا اس کا ہے محرم
خالق کی عبادت میں گزرتا ہے ہر ایک دم
آذوقۂ-زہرا کو نہ چھینے کوئی اظلم
ہر چند کہ حاصلِ-فدک کا ہے وہ کیا ہے
پر اس کو بہت ہے کہ وہ خالق نے دیا ہے
(54)
بیٹے ہیں جو اس کے وہ میرے لختِ-جگر ہیں
دونو فلکِ-عز-و-شرافت کے قمر ہیں
بحرین میں زہرا-و-علی اور وہ گوہر ہیں
اللہ کے پیارے ہیں محمد کے پسر ہیں
ناخوش کیا خالق کو اگر ان پہ جفا کی
کیجو نہ خیانت یہ امانت ہے خدا کی
(55)
سن سن کے یہ کہنے لگے اصحابِ-موافق
فرماتے ہیں وہ آپ جو ہے مرضیِ-خالق
کس پر نہیں روشن شرفِ-مصحفِ-ناطق
ان باتوں سے جل جل کے ہوئے خاک منافق
موذی تھے عداوت سے نہ باز آتے تھے ظالم
جوں مارِ-سیاہ تیش سے بل کھاتے تھے ظالم
(56)
حال ان کا نظر آیا جو سلطانِ-امم کو
فرمایا کہ لے آؤ دوات-و-قلم کو
تحریر تمہارے لیے کچھ کرنا ہے ہم کو
تارۂ-ضلالت سے رکھو باز قدم کو
واللہ عمل گر میرے لکھنے پہ کرو گے
پھر حشر تلک تم کبھی گمراہ نہ ہو گے
(57)
ایک شخص چلا لینے وہ دوات-و-قلم جب
کہنے لگا از راہِ-عداوت یہ کوئی کب
پھر آ ہمیں تحریرِ-نبی سے نہیں مطلب
قرآن ہی کافی ہے ہمارے لیے بس اب
کہتا ہو جو ہذیان اسے کب ہوش-و-خرد ہے
اس وقت کی تقریر نہ تحریر سند ہے
(58)
تکرار ان سب کی جو ایک غل ہوا برپا
اس صدمے سے محبوبِ-الہٰی کو غش آیا
کیا ظلم ہے کیا قہر ہے وا حسرتا-و-دردا
تحریرِ-وصیت کے بھی مانع ہوئے اعدا
کہنا ہذیان کا کلمۂ-حق میں نبی کے
محبوبِ-خدا سے یہ سخن بے ادبی کے
(59)
اے مومنو انصاف کی جا ہے وہ پیمبر
جس کے لیے قرآن میں کہے خالقِ-اکبر
جو کچھ ہے کلام اس کا نہیں وحی سے باہر
ہذیان کہے اس شخص کے حق میں وہ ستمگر
کونین میں لعن اس پہ نہ کیوں حشر تلک ہو
کافر ہے وہ خود کفر میں اس کے جسے شک ہو
(60)
اصحاب سے فرمایا کہ اٹھ جاؤ بس اس دم
وہ سن چکا تم سے مجھے جس بات کا تھا غم
سب اٹھ کے گھر اپنے گئے صحبت ہوئی برہم
رویا کیے تا دیر شہنشاہِ-دو-عالم
فرمایا سخن صبر کے حیدر کو بلا کے
زہرا کو بہت پیار کیا چھاتی سے لگا کے
(61)
اس دن سے ہوئی اور فزوں شدتِ-آزار
زہرا کبھی روتی تھیں کبھی حیدرِ-کرار
جبریلِ-امین نے یہ کہا آن کے ایک بار
خالق نے خبر پوچھی ہے یا احمدِ-مختار
ہر چیز عیاں اس پہ ہر ایک راہ نہاں ہے
تم پر مگر الطافِ-خداِ-دو-جہاں ہے
(62)
پوچھا ہے کہ کس طرح سے ہیں آپ کو پاتے
کیا حال ہے جو سر نہیں تکیے سے اٹھاتے
حضرت نے کہا غش پہ غش ہیں متصل آتے
الطافِ-خدا کے ہیں بیاں کب کیے جاتے
ایذائے-مرض سے نہیں گھبراتا ہوں جبریل
پر آپ کو مغموم بہت پاتا ہوں جبریل
(63)
آ کر یہ صدا دی ملک الموت نے اس دم
دو اذن مجھے آنے کا اے سیدِ-اکرم
جبریل نے کی عرض یہ با دیدۂ-پر نم
یہ قابضِ-ارواح ہے اے قبلۂ-عالم
اس نے کبھی رخصت نہیں مانگی ہے کسی سے
ہے اذنِ-طلب حکمِ-جنابِ-اہدی سے
(64)
بعد آپ کے یہ آج سے لے تا بہ قیامت
آنے کی کسی شخص سے مانگے گا نہ رخصت
یاں اس کو بلا لوں میں جو دیں آپ اجازت
جبریل سے کہنے لگے اس وقت یہ حضرت
آنے دو اسے صابر-و-شاکر ہے محمد
خالق نے بلایا ہے تو حاضر ہے محمد
(65)
یہ سن کے اسے روح الامین نے جو بلایا
تب پاس محمد کے وہ با صد ادب آیا
تسلیم بجا لا کے سخن لب پہ یہ لایا
خادم نے شرف آ کے قدم بوسی سے پایا
یہ آپ کا اعلیٰ ہے مقام اے شہِ-والا
فرمایا ہے خالق نے سلام اے شہِ-والا
(66)
فرمایا کہ گر ہو میرے محبوب کی مرضی
تو جسم سے تو روح جدا کیجیو اس کی
راضی نہ محمد ہوں تو پھر آئیو جلدی
جو اس کی خوشی ہو وہی خوشنودی ہے اپنی
وہ کیجیو جو حکمِ-رسولِ-مدنی ہو
محبوب کے میرے نہ کہیں دل شکنی ہو
(67)
فرمانے لگے اس سے یہ تب سیدِ-ابرار
بندے پہ ہے کیا کیا کرمِ-یزدانِ-غفار
جان-و-تنِ-احمد کا ہے وہ مالک-و-مختار
ہر حال میں خالق کی خوشی ہے مجھے درکار
کر قبض میری روح کو مرنے سے خوشی ہوں
مشتاقِ-ملاقاتِ-جنابِ-اہدی ہوں
(68)
جب یہ ملک الموت سے فرما چکے حضرت
زہرا کو بلا چھاتی لگایا بصد الفت
رو کر کہا اے فاطمہ ہم ہوتے ہیں رخصت
سر پیٹ کے رونے لگیں خاتونِ-قیامت
زہرا کو کبھی دیکھتے تھے گاہ علی کو
تر ریش تھی اشکوں سے یہ رقت تھی نبی کو
(69)
پھر ہاتھ میں حیدر کے دیا فاطمہ کا ہاتھ
فرمایا امانت ہے خدا کی یہ خوش اوقات
تا زیست یہ ماتم میں میرے روئے گی دن رات
زہرا سے کوئی دل شکنی کی نہ کرے بات
مہمان ہے یہ اس پر علم-و-غم ہے جہاں میں
واللہ حیات اس کی بہت کم ہے جہاں میں
(70)
پھر شبر-و-شبیر کو پاس اپنے بلایا
منہ چوما جبیں چومی کلیجے سے لگایا
رو رو کے یہ پھر حیدرِ-صفدر کو سنایا
اب اٹھتا ہے ان دونوں کے سر سے میرا سایا
پیارے ہیں میرے پیار بہت کیجیو ان کو
جب روئیں تو چھاتی سے لگا لیجیو ان کو
(71)
جس وقت نبی نے یہ کہا شیرِ-خدا سے
رونے لگے چھاتی سے لپٹ دونوں نواسے
اشک ان کے کیے پاک محمد نے عبا سے
دونوں نے کہا رو کے رسولِ-دوسرا سے
لے لو ہمیں ہمراہ جہاں جاتے ہو نانا
بے ساتھ لیے ہم کو کہاں جاتے ہو نانا
(72)
رو رو کے پیمبر نے کہا صدقے میں تم پر
خالق نے بلایا ہے تعلل کروں کیوں کر
غم میں دے صبر تمہیں خالقِ-اکبر
ناچار ہے کیوں کر تمہیں لے جائے پیمبر
فرزند تلک باپ کے کام آ نہیں سکتا
اس راہ میں ہمراہ کوئی جا نہیں سکتا
(73)
سن کر یہ سخن شور ہوا رونے کا برپا
بستر پہ ہوئے راست شہِ-یثرب-و-بطحا
نزدیکِ-محمد ملک الموت بھی آیا
فرمانِ-خدا فوجِ-ملائک کو یہ پہنچا
نزدیک سواری ہے رسولِ-عربی کی
صف باندھ کے تعظیم کرو روحِ-نبی کی
(74)
دوزخ کو بجھا دو کہ ہو رحمت میری ظاہر
کھولو درِ-افلاک میرے دوست کی خاطر
حورانِ-بہشتی ہو مکلل ببا جواہر
ہو عرش کے ساکن بہ فردوس پہ حاضر
سلطانِ-رسالت کی آمد کوئی دم کو
پلکوں سے مصفا کرو گلزارِ-ارم کو
(75)
وہ آتا ہے جو عاشقِ-صادق ہے ہمارا
وہ آتا ہے جس کے لیے عالم کو سنوارا
وہ آتا ہے جو عرشِ-معلیٰ کا ہے تارا
وہ آتا ہے جو سب سے بہت ہم کو ہے پیارا
ہنگامِ-تلطف ہے مدارات کا دن ہے
معشوق سے عاشق کی ملاقات کا دن ہے
(76)
یہ وہ ہے ستم جس نے سہے راہ میں میری
وہ امر کیا اس نے جو کچھ تھی میری مرضی
آئینۂ-ایمان کی پھر شکل جلا دی
اسلام کو رونق میرے محبوب نے بخشی
تا زیست نہ آرام ملا اہل نا ستم سے
پر کی نہیں امت کی شکایت کبھی ہم سے
(77)
سکانِ-سماوات کو واں پہنچا یہ احکام
اور قابضِ-ارواح نے یاں اپنا کیا کام
بیت الشرفِ-فاطمہ میں پڑ گیا کہرام
کانپ اٹھی زمین ہل گئے مسجد کے در-و-دام
فریاد گئی عرش تلک شیرِ-خدا کی
کونین میں غل تھا کہ محمد نے قضا کی
(78)
جبریلِ-امین کو نہ رہا ضبط کا یارا
سر پر سے پٹک تاجِ-تقرب یہ پکارا
دنیا میں اب آنا ہوا موقوف ہمارا
محبوبِ-خدا گلشنِ-ہستی سے سدھارا
رونق نہیں بے صاحبِ-معراج جہاں کی
فریاد ہے اٹھی برکت آج جہاں کی
(79)
اب کس کے لیے وحیِ-خدا لائے گا جبریل
احکامِ-رسالت کسے پہنچائے گا جبریل
کیا شبر-و-شبیر کو سمجھائے گا جبریل
اب کس کی خبر لینے کو یاں آئے گا جبریل
اب دوش پہ شفقت سے چڑھائے گا انہیں کون
اس پیار سے چھاتی پہ سلائے گا انہیں کون
(80)
چلا۔تی تھیں یوں بنتِ-نبی کوٹ کے سینہ
میں لٹ گئی ہائے ہائے ہوا ویران مدینہ
آرام کا میرے نہ رہا کوئی قرینہ
طوفان میں پڑا آلِ-محمد کا سفینہ
بیتاب میں ہوتی تھی جو ہوتے تھے سفر میں
اب حشر تک آئیں گے نہ بابا میرے گھر میں
(81)
فاقوں میں میری کون خبر لےوے گا آ کر
کون آن کے چھاتی سے لگاوے گا میرا سر
کون اب کڑھے گا دیکھ کے کہنہ میری چادر
کون اب کہے گا فاطمہ قربان میں تجھ پر
مظلوم-و-یتیم آج مجھے کر گئے بابا
کیا قہر ہے زہرا نہ موئی مر گئے بابا
(82)
میں چھوٹی تھی جب سر سے اٹھیں مادرِ-غم خوار
مادر سے زیادہ مجھے بابا نے کیا پیار
میں سوتی تھی اور آپ رہا کرتے تھے بیدار
فرماتے تھے آپ آ کے نہ رو اے میری دلدار
منہ پر ہے عبا بیٹی سے روپوش ہے بابا
میں رو رو کے چلاتی ہوں خاموش ہے بابا
(83)
ہائے ہائے میرے بچے ہوئے اب بیکس-و-مظلوم
نانا کسے اب کہہ کے پکاریں گے یہ معصوم
تا حشر رہے دولتِ-دیدار سے محروم
غمگین تھے اور بھی یہ ہوویں گے مغموم
ان دونوں کی مظلومی-و-تنہائی کا غم ہے
مادر بھی تو مہمان ہے فقط باپ کا غم ہے
(84)
رو رو کے بیان کرتے تھے یہ حیدرِ-کرار
مجبور مجھے کر گئے یا احمدِ-مختار
مرنے سے ہوا آپ کے میں بیکس-و-ناچار
جز ذاتِ-خدا کون ہے اب میرا مددگار
صابر رہا ایذا سہی گو فاقہ کشی کی
واللہ کمر ٹوٹ گئی آج علی کی
(85)
کن آنکھوں سے دیکھوں تمہیں ہائے ہائے میرے مولا
نزدیک میرے آج قیامت ہوئی برپا
حضرت مجھے گاڑیں گے یہ تھی مجھ کو تمنا
سو آپ اٹھے خلق سے وا حسرتا-و-دردا
کیوں کر کفن-و-گور کی تدبیر کروں گا
کن ہاتھوں سے میں آپ کو مدفن میں دھروں گا
(86)
حیدر یہ بیان کرتے تھے با نالۂ-فغاں
اور شبر پہ شبیر کا تھا حال پریشان
سر ننگے تھے اور چاک تھے کرتے کے گریبان
تھے نانا کی میت کے قریں خاک پہ غلطاں
مجھ پر سے عبا کو کبھی سرکاتے تھے دونوں
رو کر کبھی چھاتی سے لپٹ جاتے تھے دونوں
(87)
نانا کے کبھی چہرے سے چہروں کو ملاتے
ہاتھوں کو اٹھا کر کبھی آنکھوں کو لگاتے
خواہ بیدہ سمجھ کر کبھی بازو کو ہلاتے
کرتے کبھی فریاد کبھی اشک بہاتے
کہتے کبھی آنکھیں نہیں کھولتے نانا
آزردہ ہیں ایسے کہ نہیں بولتے نانا
(88)
سر پیٹ کے کہتی تھیں یہ زہرا نہ جگاؤ
اب ہاتھ سے تم نانا کے بازو نہ ہلاؤ
بس دیکھ چکے آؤ ردا منہ پہ اڑا دو
زاری کرو فریاد کرو خاک اڑاؤ
جیتے ہو تو دنیا میں تمہیں کیا نہ ملے گا
نانا سا مگر چاہنے والا نہ ملے گا
(89)
یہ سن کے وہ سر دے دے پٹکتے تھے زمین پر
تھا نالہ-و-فریاد سے ہنگامۂ-محشر
غل مسجدِ-جامع میں یہ تھا ہائے پیمبر
منہ پیٹتے تھے ہاتھوں سے سلمان-و-ابوذر
ماتم تھا ملائک میں رسولِ-عربی کا
تھا قومِ-بنی جاں میں غل سینہ زنی کا
(90)
یاں غسل-و-کفن میں متوجہ ہوئے حیدر
اصحابِ-نبی جمع ہوئے ڈیوڑھی پہ آ کر
تھے سب تو شریکِ-کفن-و-دفنِ-پیمبر
محرومِ-سعادت سے ہوئے چند بد اختر
پرسہ بھی دیا آ کے نہ زہرا-و-علی کو
بے چین کیا روحِ-رسولِ-عربی کو
(91)
کیا ظلم ہے کی جن کی پیمبر نے سفارش
ان سے یہ ستمگار ہوئے برسرِ-کاوش
یہ دولتِ-دنیا کے دلی کی ہوئی خواہش
سب بھولے پیمبر کے کرم اور نوازش
بس دخترِ-سلطانِ-رسالت سے بدی کی
کچھ عزت-و-توقیر نہ کی آلِ-نبی کی
(92)
یہ قفزِ-مراتب تھا کہ قرآن کو جلایا
بے دینوں نے حق مصحفِ-ناحق کو مٹایا
کس ظلم سے کس جور سے زہرا کو ستایا
محروم رہیں باپ کا ورثہ بھی نہ پایا
جس خط پہ ہوئی مہرِ-شہِ-جن-و-ملک کی
کی
چھین کے پرزے وہ سندِ-باغِ-فدک کی
(93)
بے اذن جہاں تھی نہ فرشتے کی رسائی
اس گھر کی یہ عزت کہ اسے آگ لگائی
تھیں حمل سے محسن کے محمد کی وہ جائی
پہلو پہ گرا در تو یہ فریاد مچائی
ہائے ہائے مجھے غم اور دیا باپ کے غم میں
بے جان ہوا محسنِ-معصوم شکم میں
(94)
ہیہات نہ اس ظلم پہ بھی ہاتھ اٹھایا
کوڑا با ستم بازوئے-زہرا پہ لگایا
مظلوم نے ایک آہ کی ایسی کہ غش آیا
آرام لحد میں بھی محمد نے نہ پایا
رسی تو ادھر بندھتی تھی گردان میں علی کی
مرقد میں ادھر روح تڑپتی تھی نبی کی
(95)
جو احمد-و-زہرا-و-علی کو ہوئی ایذا
جو ظلم-و-ستم شبر-و-شبیر پہ گزرا
ہوویں گے کبھی ظالم-و-مظلوم بھی ایک جا
اب ہائے خاموشی ہے انیس آگے کہیں کیا
جب حشر کو یہ دفترِ-جاں سوز کھلے گا
اس ظلم کا بھی حال اسی روز کھلے گا