بسمِ ربِّ الحسین
(1)
لہو سے لال جو رن میں علی کا لال ہوا
عجب وفور-جراحت سے تن کا حال ہوا
بہا جو زخموں سے خوں جسم-شاہ نڈھال ہوا
سنبھلنا خانہ-زیں پر انھیں محال ہوا
حسین امام تو گھوڑے پہ ڈگمگانے لگے
قریب آکے عدو برچھیاں لگانے لگے
(2)
اکیلے شاہ تھے اور تھا ہجوم-لشکر-شام
کوئی لگاتا تھا نیزہ ستم کا کوئی حسام
چھدا ہوا تھا تن-پاک برچھیوں سے تمام
رضا رضا کے سوا کچھ نہ تھا زباں پہ کلام
نجات-امت-عاصی کی چاہتے تھے حسین
جو کچھ زباں سے کہا تھا نبھا رہے تھے حسین
(3)
بدن پہ پڑتے تھے جب تیر شکر کرتے تھے
یہ رحم تھا کہ نہ قبضے پہ ہاتھ دھرتے تھے
وہ تیر ظلم کے سینے سے جب گزرتے تھے
تو دیکھ سوئے فلک سرد آہ بھرتے تھے
دکھاتے زور-امامت تو پھر قیامت تھی
عجب رسول کی امت سے شاہ کو الفت تھی
(4)
یہ کس میں حوصلہ جو تن تو ہوئے زخموں سے چور
دکھائے اس پہ نہ قدرت وہ صاحب-مقدور
جو چاہتا تو فنا ہوتے دم میں وہ مقہور
مگر حسین کو خالق کی تھی خوشی منظور
ملا نہ کونسا دکھ کونسی جفا نہ ہوئی
مگر زباں کبھی شکوے سے آشنا نہ ہوئی
(5)
رفیق آنکھوں کے آگے ہوئے شہید-ستم
بھتیجا قاسم-نوشاہ سا ہوا بے دم
فرات پر ہوئے بھائی کے دونوں ہاتھ قلم
پسر مرا علی اکبر سا سہہ کے رنج-و-الم
ہزار رنج میں گو جان دردمند رہی
رضا-خالق-اکبر کمر پسند رہی
(6)
عدو تو نیزہ-و-تیر-و-تبر لگاتے تھے
امام زخموں کو کھا کھا کے مسکراتے تھے
زبان-خشک کبھی ہونٹوں پر پھراتے تھے
کبھی آبلے زخمی ہاتھ اٹھاتے تھے
حرم کا دھیان تھا نے غم تھا اپنے پیاروں کا
فقط خیال تھا ہم سے گناہگاروں کا
(7)
بہم جو پہنچا نہ تھا تین دن سے قطرہ-آب
فرش پہ غش ہوئے جاتے تھے شاہ-عرش جناب
مہینہ جیٹھ کا تھا دھوپ میں تھی یہ تاب-و-تاب
کہ دشت-کیں کی زمیں تھی زمین-روز-حساب
زوال-شمس تھا لو گرمیوں کی چلتی تھی
شرر فشاں تھا فلک اور زمین جلتی تھی
(8)
کھڑا تھا دھوپ میں تنہا وہ شہ-نیک-سیر
نہ کوئی یار تھا اس وقت نے کوئی یاور
کٹے تھے پیچ عمامے کے تیغوں سے یکسر
ہزار نو صد-و-پنجاہ زخم تھے تن پر
رکاب پائے مبارک سے نکلی جاتی تھی
زبان پیاس کی شدت سے لڑکھڑاتی تھی
(9)
بدن کے زخم تمازت سے کھر کی جلتے تھے
لہو کے قطرے بسان-شرر نکلتے تھے
ہر اک زخم سے خوں لے کے منہ پہ ملتے تھے
جو گرنے لگتے تھے گھوڑے پہ پھر سنبھلتے تھے
کبھی دہن سے ٹپکتا تھا گا جبیں سے لہو
امام پونچھتے جاتے تھے آستیں سے لہو
(10)
نہ رحم کرتے تھے کچھ شامیان-بد-کردار
پیاپے اس پہ لگاتے تھے تیغ-ظلم کے وار
ہر اک سمت سے پڑتی تھی تیر کی بوچھاڑ
تو ان سے کہتا تھا فرزند-احمد-مختار
نہ مارو مجھ کو دو عالم کا بادشاہ ہوں میں
خدا گواہ ہے سید ہوں بے گناہ ہوں میں
(11)
ڈرو خدا سے ذرا اے گروہ-ظلم-پسند
نہیں سمجھتے نہ سمجھو رسول کا فرزند
کیا قبول کہ حیدر کا بھی نہیں دلبند
بتول کے بھی کلیجے کا میں نہیں پیوند
اسیر-رنج-و-محن ہوں بلا نصیب تو ہوں
میں کلمہ گو تو ہوں مہماں تو ہوں غریب تو ہوں
(12)
امام سمجھو نہ اک بندہ-خدا سمجھو
غریب-و-بیکس-و-بے-یار-و-آشنا سمجھو
علی کا لال نہ زہرا کا دلربا سمجھو
عیال دار مصیبت کا مبتلا سمجھو
کلیجہ صور-آتش سے کباب ہے یارو
پلانا پیاسے کو پانی ثواب ہے یارو
(13)
کوئی نہ سنتا تھا یہ اس امام کی تقریر
ستم کی برچھیاں سینے پہ مارتے تھے شریر
کھڑی تھی ڈیوڑھی پہ سر کھولے شاہ کی ہمشیر
فغاں یہ کرتی تھی وہ دختر-امیر-کبیر
لعینو ! بھوکے پیاسے کو قتل کرتے ہو
رسول-حق کے نواسے کو قتل کرتے ہو
(14)
میں اب نکلتی ہوں خیمے سے سر کے کھولے بال
نہ لو امام کے خوں کا تم اپنے سر پہ وبال
غریب بیکس-و-بے آس ہے رسول کا لال
بس اب نہ وار کرو زخمی ہو چکا ہے کمال
عیال لے کے کسی اور سمت جائے گا
تمہاری ملک کے سرحد میں اب نہ آئے گا
(15)
یہ کہہ کے زینب-بیکس پچھاڑیں کھاتی تھی
در-خیام سے کلثوم نکلی آتی تھی
سکینہ ہائے پدر کہہ کے بلبلاتی تھی
صدا یہ گوش-شاہ-تشنہ-لب میں جاتی تھی
سوئے خیام بحسرت نگاہ کرتے تھے
جگر کو تھام کے ہاتھوں سے آہ کرتے تھے
(16)
بہن جو سنتی تھی بھائی کی نالہ-و-زاری
اٹھا کے خیمے کے پردے کو تب وہ دکھیاری
پکارتی تھی کہ بھیا بہن تیرے واری
لگے ہیں تیروں کے کیا زخم جسم پر کاری
پکار کر کہو مجھ سے جو حال ہے بھائی
تمہارا جسم تو سب خوں سے لال ہے بھائی
(17)
یہ ظلم دیکھنے کی میرے دل کو تاب کہاں
خدا کے واسطے خیمے میں آؤ بھائی جاں
تمہاری بیکسی مظلومی کے بہن قرباں
خبر تو رانڈوں کی لو یا امام-تشنہ-دہاں
کھڑی ہوئی در-خیمے پہ ہاتھ ملتی ہوں
تم آؤ ورنہ میں اب ننگ-سر نکلتی ہوں
(18)
جو تم میں آنے کی طاقت نہ ہو تو آؤں میں
تمہارے بدلے سپر ہوں تمہیں بچاؤں میں
بدن پہ نیزہ-و-خنجر کے زخم کھاؤں میں
ردا-حضرت-زہرا س ع تمہیں اڑھاؤں میں
پھر اپنی آنکھوں سے اک بار دیکھ لوں بھائی
تمہارا آخری دیدار دیکھ لوں بھائی
(19)
سنی غریب بہن کی یہ جس گھڑی تقریر
تو اپنی بیکسی پر روئے سید-دلگیر
پکارے خیمے کو منہ پھیر کر کے اے ہمشیر
میرے بچانے کی اس وقت مت کرو تدبیر
لگام گھوڑے کی اس دم پھرا نہیں سکتے
یہ زخمی ہیں کہ وہاں تک ہم آ نہیں سکتے
(20)
کھڑی ہے گھیرے ہوئے مجھ کو فوج-ناہنجار
قدم نہ ڈیوڑھی سے باہر نکالیو زنہار
خدا کے شیر کی بیٹی ہو تم بلند وقار
جو نکلے گی تو کہے گا ہر اک بد کردار
حسین امام کی خواہر کو سر کھلے دیکھا
بتول-پاک کی دختر کو سر کھلے دیکھا
(21)
یہ سچ ہے ضبط کا اس دم تمہیں نہیں یارا
یہ کیا کریں کہ سوا ضبط کے نہیں چارا
اگرچہ تن ہے میرا تیغ-کیں سے صد پارا
مگر بہن تیرے بھائی نے دم نہیں مارا
نہ جانیو کہ مجھے زخموں کی اذیت ہے
خدا کی راہ میں جو رنج ہے سو راحت ہے
(22)
یہ جانے گر یہ نہیں بلکہ ہے خوشی کی جا
کہ آج ہوتا ہوں بہنا شہید-راہ-خدا
ملے گا خلعت-پر-خوں مجھے شہادت کا
بلند ہو گا دو عالم میں مرتبہ میرا
فدا-خالق-بندہ-نواز ہو شبیر
چڑھے سناں پہ جو سر سرفراز ہو شبیر
(23)
بھلاؤ دل سے مجھے اب خدا کو یاد کرو
نہ دے گا کوئی طلب مت کسی سے داد کرو
رضا-خالق-اکبر پہ اعتماد کرو
اسی کی چاہو خوشی دل کو اپنے شاد کرو
جو وہ ہو راضی تو مرنا بھی زندگانی ہے
محل-رنج-و-مصیبت یہ دار-فانی ہے
(24)
تمہارے ماں پہ ہوئے کیسے کیسے رنج-و-محن
ہمیشہ صدمے پہ صدمے دیا کیے دشمن
سوائے شکر شکایت کا پر کیا نہ سخن
کرو وہ تم بھی کہ جو تھا تمہاری ماں کا چلن
نہ پیٹو سینہ-و-سر نے بکا کرو بہنا
اب اپنے بھائی کے حق میں دعا کرو بہنا
(25)
گلے پہ جبکہ رواں ہوویں میرے تیغ-ستم
تو سوئے قبلہ ہو سجدے میں تو بھی گردن-خم
ہزار تیر بدن پر اگر لگیں پیہم
دعا کرو یہ کہ اس راہ سے ڈگے نہ قدم
گلے پہ جلد رواں میرے تیغ-براں ہو
اب اک ذبح کے دم کی بھی مشکل آساں ہو
(26)
بیاں بہن سے یہ کرتا تھا وہ امام-انام
پکارا فوج کو جب ابن-سعد بد انجام
کرو بس اب پسر-فاطمہ کا کام تمام
گرادو گھوڑے سے جلد اے گروہ-لشکر-شام
سناں سے تیغ سے خنجر سے دل فگار کرو
بدن سے کاٹ کے سر نیزے پر سوار کرو
(27)
یہ سن کے ٹوٹ پڑی اس پہ فوج-کیں اک بار
ہر اک طرف سے ہوئی برچھیوں کی مارا مار
قبا رسول کی سب خوں سے ہو گئی گلنار
پہ کیا بیاں کروں صبر-شاہ-بلند-وقار
نہ اضطراب تھا کچھ اور نہ بے قراری تھی
دعا-بخشش-امت زباں پہ جاری تھی
(28)
سنبھلنے کا جو نہ تھا ذوالجناح کو یارا
تو لڑکھڑاتا تھا ہر مرتبہ وہ بیچارا
کہ نیزہ پہلو پہ اک بد-نہاد نے مارا
تڑپ گیا وہ جناب-رسول کا پیارا
تکاں سے اس کی جو سینے میں درد ہونے لگا
تو شاہ کا چہرہ-پر-نور زرد ہونے لگا
(29)
نہ اس ستم پہ بھی باز آئے آہ وہ بے پیر
کسی نے فرق-مبارک پہ ماری اک شمشیر
ابو الحتوق لعیں نے کماں میں جوڑ کے تیر
لگایا آہ سوئے دلبر-جناب-امیر
وہ ماتھا چاند سا یوں تیر کا نشانہ ہوا
کہ پشت-سر سے وہ تیر-ستم روانہ ہوا
(30)
وہ زخم تیر کا جب یک بہ یک لگا کاری
جبیں سے صورت-فوارہ خوں ہوا جاری
پھر ابن وہب نے برچھی کو چھاتی پر ماری
کہ اس کے زہر میں آلود تھی سناں ساری
وہ برچھی سینہ-شبیر کے جو پار ہوئی
تو روح-فاطمہ مرقد میں بے قرار ہوئی
(31)
سناں وہ سینے سے سبط-نبی نے جب کھینچی
کلیجہ ٹکڑے ہوا خون کی بہی ہے ندی
غش آیا پھر نہ سنبھلنے کی شاہ کو تاب رہی
قدم رکابوں سے اور ہاتھ سے لگام چھٹی
جدا جو گھوڑے سے وہ نامدار ہونے لگا
تو ذوالجناح بھی گردن جھکا کے رونے لگا
(32)
ابھی زمیں پہ گرے تھے نہ ذوالجناح سے شاہ
کہ آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا ناگاہ
خبر حسین کی لو جلد آ کے یا آقا
خدا کے شیر کو بھی لیتے آئیو ہمراہ
دہائی ہے میرا پیارا زمیں پہ گرتا ہے
خدا کے عرش کا تارا زمیں پہ گرتا ہے
(33)
کوئی نہیں میرے بچے کو تھامنے والا
ہر اک زخم سے بہتا ہے خوں کا پرنالہ
کوئی لگاتا ہے تیر-ستم کوئی بھالا
بڑے دکھوں سے اسے فاطمہ نے پالا تھا
شہید لال میرا بے گناہ ہوتا ہے
مدد کرو کہ میرا گھر تباہ ہوتا ہے
(34)
پکاری فاطمہ پھر ذوالجناح کو اک بار
سوار-دوش-رسول-خدا ہے تجھ پہ سوار
گرے کہیں نہ تیرے پشت سے میرا دلدار
دو زانو خاک پہ آہستہ بیٹھ جا رہوار
خدا نہ کر وہ جو یہ نیم-جاں زمیں پہ گرا
یقیں سمجھ لے کہ بس آسماں زمیں پہ گرا
(35)
یہ تیرے پیٹھ کا بچپن سے چڑھنے والا ہے
اسے رسول سے آقا نے تیرے پالا ہے
یہ برگزیدہ-محبوب-حق-تعالیٰ ہے
مگر فلک نے مصیبت میں اس کو ڈالا ہے
زمیں پہ گر کے جو غلتاں بہ گرد ہووے گا
میرے حسین کے زخموں میں درد ہووے گا
(36)
تو جانتا ہے یہ چڑھتا تھا دوش-احمد پر
بنا تھا عید کے دن اس کا اونٹ پیغمبر
برائے سجدہ-معبود جب جھکاتے تھے سر
سوار ہوتا تھا پشت-نبی پہ یہ دلبر
خدا کے دوست سے ایسا یہ پیار کرتا تھا
نہ سر اٹھاتا تھا جب تک نہ یہ اترتا تھا
(37)
سنی یہ گھوڑے نے یہ بنت-مصطفیٰ کی صدا
تو گھٹنے ٹیک کے تازی زمیں پہ بیٹھ گیا
اتر کے ریتی پہ گھوڑے سے دلبر-زہرا
لہو میں ماہی-بے-آب سا تڑپنے لگا
وہ گیسو خاک سے اس بن کے اٹ گئے سارے
بدن کے زخم تڑپنے سے پھٹ گئے سارے
(38)
زمیں پہ خون میں غلتاں تھے حضرت-شبیر
کہ گرد-شاہ ہوا انبوہ-فرقہ-بے-پیر
کماں کزہ کیے نکلا حین ابن نمیر لع
گلو-خشک پہ حضرت کے اس نے مارا تیر
دو سار ہو کے وہ تیر-ستم لٹکنے لگا
گلے میں آ کے رکا دم لہو ٹپکنے لگا
(39)
یہ حال دیکھ کے بھائی کا زینب-مضطر
اٹھا کے خیمے کے پردے کو دوڑی ننگ-سر
قریب شاہ کے آ پہنچی جب وہ خستہ جگر
پکاری اے عمر-سعد کچھ خدا سے تو ڈر
حجاب روح-پیمبر سے کچھ بھی آتا ہے
تو دیکھتا ہے میرا بھائی مارا جاتا ہے
(40)
یہ کون ہے جسے کرتا ہے قتل اے بے پیر
یہ کس کے جسم پہ لگتے ہیں نیزہ-و-شمشیر
یہ کس کا حلق ہے مارا ہے جس پہ ظلم کا تیر
بھری ہے خون میں یہ کس کی چاند سی تصویر
ارے غریب ہے بیکس ہے بھوکا پیاسا ہے
ذرا سمجھو تو یہ کس شخص کا نواسا ہے
(41)
سخن یہ زینب-دلگیر کے جو شاہ نے سنے
زمیں پہ غش میں تڑپتے تڑپتے اٹھ بیٹھے
اور اپنے حلق سے کھینچا وہ تیر جلدی سے
گلے کے زخم پہ زینب کی تا نظر نہ پڑے
لہو کی دھار سی لیکن نظر جو آنے لگی
دہائی دے دے کے زینب پچھاڑیں کھانے لگی
(42)
نہ آیا اس پہ بھی رحم ابن سعد کو اصلا
شقی نے اپنا رخ-نحس ادھر سے پھیر لیا
سنان-و-خولی-و-حجاج-و-شمر سے یہ کہا
بدن سے کاٹ لو اب سر حسین-بیکس کا
کسی کے پیٹنے رونے کا مت خیال کرو
سموں سے گھوڑوں کے لاشہ بھی پائمال کرو
(43)
یہ سن کے آئے پئے قتل-شاہ وہ ناہنجار
امام-دیں پہ پھر آ کر کیا ہر اک نے وار
تن-شریف میں جنبش رہی نہ جب زنہار
چڑھا حسین کی چھاتی پہ شمر-بد-کردار
اب آگے حال کہوں کیا گلو-و-خنجر کا
انیس تازہ ہے غم تابہ حشر سرور کا
اللھم صل علی محمد وآل-محمد