بِسمِ رَبِّ الحُسَین
(1)
دولت کوئی دنیا میں پسر سے نہیں بہتر
راحت کوئی آرام-ِ-جگر سے نہیں بہتر
لذت کوئی پاکیزہ ثمر سے نہیں بہتر
حکمت کوئی بو-ئے-گل-ِ-تر سے نہیں بہتر
صدموں میں علاج-ِ-دل-ِ-مجروح یہی ہے
ریحاں ہے یہی، راہ یہی، روح یہی ہے
(2)
ماں باپ کا دل غنچہ-ٔ-خنداں ہے اسی سے
وہ گل ہے کہ گھر رشک-ِ-گلستاں ہے اسی سے
سب راحت-و-آرام کا ساماں ہے اسی سے
آبادی کا شانہ-افشاں ہے اسی سے
کس طرح کھلے دل کہ جگر بند نہیں ہے
گھر قبر سے بدتر ہے جو فرزند نہیں ہے
(3)
یہ وہ ہے عصا پیر-ِ-جواں رہتا ہے جس سے
یہ وہ ہے نگیں نام-و-نشاں رہتا ہے جس سے
وہ شمع ہے پُر نور مکاں رہتا ہے جس سے
وہ دُر ہے قوی رشتہ-ٔ-جاں رہتا ہے جس سے
کھوتے نہیں یہ مال زر-و-مال کے بدلے
موتی بھی لٹا دیتے ہیں اس لال کے بدلے
(4)
صولت یہی، شوکت یہی، اجلال یہی ہے
ثروت یہی، حشمت یہی، اقبال یہی ہے
سرمایہ یہی، نقد یہی، مال یہی ہے
گوہر یہی، یاقوت یہی، لال یہی ہے
دلبر ہو پہلو میں تو غم پاس نہیں ہے
کچھ پاس نہیں گر یہ رقم پاس نہیں ہے
(5)
ماں باپ کی آسائش-و-راحت ہے پسر سے
تلخی میں بھی جینے کی حلاوت ہے پسر سے
خوں جسم میں، آنکھوں میں بصارت ہے پسر سے
ایّام-ِ-ضعیفی میں بھی طاقت ہے پسر سے
آرام-ِ-جگر، قوّت-ِ-دل، راحت-ِ-جاں ہے
پیری میں یہ طاقت ہے کہ فرزند جواں ہے
(6)
وہ شے ہے خوشی در پہ کھڑی رہتی ہے جس سے
وہ چین ہے راحت کی گھڑی رہتی ہے جس سے
وہ لال ہے امّید بڑی رہتی ہے جس سے
وہ دُر ہے، یہ دُر جاں لڑی رہتی ہے جس سے
آرام-ِ-جگر، تاب-و-توان ساتھ ہے اس کے
پھرتا ہے جدھر رشتہ-ٔ-جاں ساتھ ہے اس کے
(7)
مالک سے بھرے گھر کے اجڑ جانے کو پوچھو
گھر والوں سے اس تفرقہ پڑ جانے کو پوچھو
ماں باپ سے قسمت کے بگڑ جانے کو پوچھو
یعقوب سے یوسف کے بچھڑ جانے کو پوچھو
اللہ دکھائے نہ الم نور-ِ-نظر کا
یہ جاتا ہے آنکھوں سے لہو قلب-و-جگر کا
(8)
اب رخصت-ِ-اکبر ہے شہ-ِ-تشنہ-دہاں سے
فرزند بچھڑتا ہے امام-ِ-دو-جہاں سے
پیری میں چھڑاتا ہے فلک تازہ جواں سے
کس فصل میں درپیش ہے فرقت تن-و-جاں سے
آتی ہے اجل گود کا پالا نہیں جاتا
صابر سے کلیجے کو سنبھالا نہیں جاتا
(9)
فرماتے ہیں فرزند سے آنکھوں کو چرا کر
دیکھ آؤ ذرا مادر-ِ-ناشاد کو جا کر
کہتا ہے وہ ناشاد جواں اشک بہا کر
اب جائیں گے خیمے میں سنا سینے پہ کھا کر
منہ نیزہ-و-شمشیر سے موڑا نہیں جاتا
سب چھوڑے مگر آپ کو چھوڑا نہیں جاتا
(10)
مولا یہ غلام اب متمنّی ہے رضا کا
مشتاق ہے یہ خشک گلا آب-ِ-بقا کا
شہرہ ہے علمدار-ِ-دلاور کی وغا کا
کچھ کام تو خادم سے بھی ہو راہ-ِ-خدا کا
اس خاک کا ذرّہ ہو جو خورشید وہی ہے
جو آج مرے زندہ-و-جاوید وہی ہے
(11)
جینے پہ مرے عشق-ِ-خدا جس کو نہیں ہے
پتھر ہے محبت کا مزہ جس کو نہیں ہے
خاک اس زرد گوہر پہ بقا جس کو نہیں ہے
لٹتی ہے وہ دولت کہ فنا جس کو نہیں ہے
ادنیٰ ہو تو اعلیٰ ہو، گدا ہو تو غنی ہو
حصہ یہ اسی کا ہے جو قسمت کا دھنی ہو
(12)
ڈوبے گا جو حیدر کے سفینے میں نہیں ہے
نام اس کا شفاعت کے نگینے میں نہیں ہے
دل مردہ ہے گر درد بھی سینے میں نہیں ہے
مرنے میں جو لذت ہے وہ جینے میں نہیں ہے
سر دینے کی لذت کوئی سردار سے پوچھے
زخموں کا مزہ شاہ کے نمک-خواروں سے پوچھے
(13)
پھر موت ہے گر عمر ملی لاکھ برس کی
بلبل سے اب اٹھتی نہیں تکلیف نفس کی
دامادوں کو آتی ہے یہ آواز جرس کی
ایذا ہے مسافر کو فقط چند نفس کی
اس دن کے سوا نوشہ-ٔ-عقبیٰ نہ ملے گا
ڈھونڈو گے تو پھر قافلہ ایسا نہ ملے گا
(14)
دوری نہیں کچھ عمر-ِ-سفر ہوتی ہے کوتاہ
ہمت ہو تو کٹ جاتی ہے نرمی سے کڑی راہ
سالک ہے وہی راہ-ِ-رضا سے جو ہو آگاہ
اصیل کی صورت تجھے کوثر کی ہے گر چاہ
جاتا ہے وہی پھر کے جو آتا ہے جہاں سے
دن بھر میں کہاں مہر پہنچتا ہے کہاں سے
(15)
کوتاہی-ِ-قسمت نے چھڑایا ہمیں سب سے
محبوب-ِ-محمد سے، خجل شاہ-ِ-عرب سے
سر دیں گے دم-ِ-صبح، ارادہ تھا یہ شب سے
تڑپا کیے اور کچھ نہ کہا پاس-ِ-ادب سے
دشمن پہ نہ ایسے الم-و-غم ہوں جہاں میں
قاسم تو ہوں فردوس میں اور ہم ہوں جہاں میں
(16)
چھوٹے جو ہوں وہ جوہر-ِ-شمشیر دکھائیں
ہم خاک-بسر روتے ہوئے لاشوں پہ جائیں
عباس-ِ-علی خوں میں لب-ِ-نہر نہائیں
بعد ان کے بھی سر دینے کا ہم اذن نہ پائیں
فرزند فدا باپ پہ ہوتے نہیں شاید
ہم حیدر-ِ-کرار کے پوتے نہیں شاید
(17)
بچپن میں ہمیں آپ نے شمشیر عطا کی
مٹ جائیں گے جوہر جو ہمی نے نہ وغا کی
ہم شیر ہیں شیروں کے، قسم شیر-ِ-خدا کی
حرمت ہے شجاعت کی تو عزت ہے خدا کی
شب زوں میں کماں میں رہے ہتھیاروں سے کھیلے
بچپن میں جو کھیلے بھی تو تلواروں سے کھیلے
(18)
نہ صبر میں حضرت سا کوئی ہے نہ رضا میں
گھر اپنے صدقے کیا سب راہ-ِ-خدا میں
یہ حوصلہ کس کا ہے کہ روئے نہ عزا میں
کیجے میری امداد بھی اس رنج-و-بلا میں
گر بعد خدا کے ہیں تو ماں باپ ہیں مولا
دیجے مجھے رخصت کہ ساقی آپ ہیں مولا
(19)
اے سالک-ِ-منہاج-ِ-علی راہ دکھا دے
مشتاق ہوں جس در کا وہ درگاہ دکھا دے
دروازہ-ٔ-رحمت مجھے للہ دکھا دے
دربار-ِ-شہنشاہ-ِ-فلک-جاہ دکھا دے
واں پہنچے جہاں عرش بھی پایہ نہیں رکھتا
ہمسائے میں اس کے ہوں جو سایہ نہیں رکھتا
(20)
یہ کہہ کے جو قدموں پہ گرا وہ مہ-ِ-انور
سر چھاتی سے لپٹا کے یہ کہنے لگے سرور
میں مانع-ِ-سبیل-ِ-سعادت نہیں دلبر
جو تم سے بن آئے وہ کرو ہائے علی اکبر
یہ سنتے ہی دنیا سے گزر جائے گی زینب
رونا مجھے اس کا ہے کہ مر جائے گی زینب
(21)
عمر اس نے گوائی ہے محبت میں تمہاری
سب ہیں پہ وہ عاشق ہے حقیقت میں تمہاری
اٹھارہ برس کاٹے ہیں الفت میں تمہاری
کیوں کر اسے صبر آئے گا فرقت میں تمہاری
اللہ ہی چاہے تو نہ حائل کوئی شے ہو
یہ مرحلہ ایسا ہے کہ دو باتوں میں طے ہو
(22)
بِسمِ اللہ اگر عزم ہے تو خیمے میں جاؤ
ماں سے بھی پھپھی سے بھی رضا جنگ کی لاؤ
روکوں گا نہ میں شوق سے، پھر برچھیاں کھاؤ
آب-ِ-دم-ِ-شمشیر سے پیاس اپنی بجھاؤ
دیر اب کہیں دنیا سے گزرنے میں نہ ہووے
ہاں جلد کہ عرصہ میرے مرنے میں نہ ہووے
(23)
شہرٹ ہے جو اب دیجیے سر راہ-ِ-خدا میں
سو نفع سے بہتر ہے ضرر راہ-ِ-خدا میں
آبادی ہے لٹ جائے جو گھر راہ-ِ-خدا میں
ہو عید جو قربان ہو پسر راہ-ِ-خدا میں
اک یہ بھی عطا ہے کہ بنے کام ہمارا
دولت اسی کی ہے سب اور نام ہمارا
(24)
یہ سن کے گیا خیمے میں وہ صاحب-ِ-توقیر
الفت سے پھری گرد-ِ-پسر بانو-ئے-دلگیر
لپٹا کے گلے کہنے لگی شاہ کی ہمشیر
جھلسائی ہے دھوپ میں یہ چاند سی تصویر
دو دن سے اس آفت میں نہیں سوئے ہو بیٹا
آنکھوں پہ ورم کیسا ہے، کیا روئے ہو بیٹا
(25)
حضرت کی تو ہے خیر، کہو اے میرے دلبر
اشک آنکھوں سے ٹپکا کے یہ بولا وہ دلاور
اب خیر کہاں کٹ گیا سب شاہ کا لشکر
نہ آپ کے بیٹے، نہ بھتیجے، نہ برادر
عمو نے بھگایا تھا جنہیں وہ بھی پھرے ہیں
مظلوم پدر لاکھ سواروں میں گھرے ہیں
(26)
اک ہم ہیں کہ بابا کی مدد کر نہیں سکتے
اظہار-ِ-جواں-مردی-ِ-جد کر نہیں سکتے
فوجوں کے ہٹا دینے میں کد کر نہیں سکتے
بے حکم کوئی وار بھی رد کر نہیں سکتے
دربار میں سر دینے کی باری نہیں آتی
سب مرتے ہیں اور موت ہماری نہیں آتی
(27)
رخصت ہمیں ماں دیں، نہ پھپھی دیں، نہ پدر دیں
مجبور ہیں کیوں کر قدم-ِ-شاہ پہ سر دیں
دم بھر میں یہ میدان-ِ-وغا لاشوں سے بھر دیں
سرکش جو بڑھے آتے ہیں پسپا انہیں کر دیں
اندوہ-و-مصیبت کی صفیں ہٹ نہیں سکتیں
وہ بیڑیاں ہیں پاؤں میں جو کٹ نہیں سکتیں
(28)
جائیں گے کدھر جب نہ رہے سید-ِ-عالی
نہ دوست، نہ ہمدرد، نہ مولا، نہ موالی
کیسی یہ مصیبت فلک-ِ-پیر نے ڈالی
یہ آج کا جینا نہیں دو حال سے خالی
یا کوہ میں یا دشت کے میدان میں مریں گے
یا بیڑیاں پہنے ہوئے زندان میں مریں گے
(29)
الفت میں بگڑتا ہے بنا کام ہمارا
اب صفحہ-ٔ-ہستی سے مٹا نام ہمارا
شہرہ تھا بہت روم سے تا شام ہمارا
آغاز تو وہ اور یہ انجام ہمارا
یہ منزل-ِ-اندوہ-و-بلا کاٹ کے مرتے
گر منع نہ ہوتا تو گلا کاٹ کے مرتے
(30)
سر دے کے شجاعان-ِ-عرب خلد میں پہنچے
دنیا سے بصد عیش-و-طرب خلد میں پہنچے
پھر راحت-و-آرام ہے جب خلد میں پہنچے
اے راہ! ہمیں رہ گئے سب خلد میں پہنچے
الفت میں کوئی روکنے والا ہی نہ ہوتا
اے کاش پھپھی نے ہمیں پالا ہی نہ ہوتا
(31)
کس کو ہے نظر تشنہ-دہانی پہ ہماری
دے گا نہ کوئی نذر بھی پانی پہ ہماری
رونے کی ہے جا مرتبہ-دانی پہ ہماری
جیتے رہے خاک ایسی جوانی پہ ہماری
چرچا نہ فدا ہونے کا دنیا میں رہے گا
مانع ہوئے ماں باپ، یہ کوئی نہ کہے گا
(32)
ہتھیار کدھر پھینکیں، کہاں چھپنے کو جائیں
کس بن میں رہیں، کون سے جنگل کو بسائیں
تنہا ہیں سفارش کے لیے کس کو بلائیں
امداد کریں شیر-ِ-خدا، فاطمہ آئیں
اعجاز ہو تو کام میرا بند نہ ہوگا
یوں تو کوئی رخصت پہ رضامند نہ ہوگا
(33)
زینب نے کہا کس پہ یہ غصہ ہے میں واری
کچھ منہ سے کہا میں نے کہ مادر نے تمہاری
کیا وجہ یہ کس بات پہ ہے گریہ-و-زاری
سج لیجیے ہتھیار، طلب کیجیے سواری
انصاف کرو صدقے گئی اہلِ-وفا ہو
روکیں تو پدر، پالنے والی سے خفا ہو
(34)
کیوں کاٹو گلا غیظ سے، کیوں ہونٹ چباؤ
میں شاہ سے دلا دوں گی رضا، شوق سے جاؤ
مر جاؤں گی سر پیٹ کے، آنسو نہ بہاؤ
لو رخ کی بلائیں تو میں لے لوں، ادھر آؤ
تقصیر ہمی سے ہوئی، لو جانے دو بیٹا
الجھی ہوئی زلفوں کو تو سلجھانے دو بیٹا
(35)
بانو نے کہا لو انہیں یوں کون منائے
غصہ بھی اٹھائے وہی جو ناز اٹھائے
سمجھی میں یہ، حضرت سے خفا ہو کے ہیں آئے
اس پردے میں پیغام-ِ-جدائی بھی ہیں لائے
کچھ ان کی ہیں کچھ آپ کے ہیں بھائی کی باتیں
میں خوب سمجھتی ہوں یہ دانائی کی باتیں
(36)
بانو کا یہ کہنا تھا کہ رخصت کا ہوا غل
رانڈوں میں شہیدوں کی مصیبت کا ہوا غل
آفت کی پڑی کوکھ، قیامت کا ہوا غل
اس شور میں اکبر کی بھی رخصت کا ہوا غل
گھبرا گئے سجاد-ِ-حزیں چونک کے غش سے
سمجھے کہ سفر ہو گیا اصغر کا عطش سے
(37)
فضا سے کہا کیا ہوا کیسی ہے یہ زاری
سر پیٹ کے وہ خادمہ-ٔ-خاص پکاری
شبیر اکیلے ہیں غضب ہو گیا واری
اب جاتی ہے رن کو علی اکبر کی سواری
ماں خاک اڑاتی ہے، پھپھی غش میں پڑی ہیں
سب بیبیاں حلقہ کیے گرد ان کے کھڑی ہیں
(38)
فرمایا عصا لا کہ برادر سے مل آئیں
غازی سے، مجاہد سے، دلاور سے مل آئیں
دریا-ئے-شہادت کے شناور سے مل آئیں
شبیر کے پیارے علی اکبر سے مل آئیں
بھائی کا نہیں کوچ یہ رخصت ہے نبی کی
ہم آپ چلیں گے کہ زیارت ہے نبی کی
(39)
فضا نے عصا دے کے یہ بازو کو سنبھالا
بستر سے اٹھا کانپ کے وہ گیسوؤں والا
خم ہو گیا تھا درد-ِ-کمر سے قد-و-بالا
تھرا کے پڑا پاؤں کہیں اور کہیں ڈالا
اشک آنکھوں سے بہتے تھے گریبان-ِ-قبا پر
ہر بار ٹھہر جاتے تھے سر رکھ کے عصا پر
(40)
آواز-ِ-حزیں تھی کہ میری جان برادر
بیمار برادر تیرے قربان برادر
ہم آتے ہیں ٹھہرے رہو اک آن برادر
ذی قدر برادر میرے ذیشان برادر
ہم روئیں تمہیں، تم کہیں روتے ہوئے جاؤ
بھائی سے بغل-گیر تو ہوتے ہوئے جاؤ
(41)
عابد کی طرف دیکھ کے دوڑے علی اکبر
آنکھوں کو ملا، ہاتھوں سے قدموں پہ ملا سر
سجاد نے فرمایا کلیجے سے لگا کر
گردن میں میری ڈال دو باہوں کو برادر
شانے کے قریں زلف-ِ-معنبر رہے بھائی
چہرہ میرے چہرے کے برابر رہے بھائی
(42)
اے روشنی-ِ-خانہ-ٔ-زہرا تیرے صدقے
اے باپ کے عاشق میرے شیدا تیرے صدقے
اے تشنہ-لب، اے بیکس-و-تنہا تیرے صدقے
اے راہرو-ِ-فردوس-ِ-معلّٰی تیرے صدقے
گھر آج اجڑتا ہے، لٹے جاتے ہیں بھائی
ہم قافلہ والوں سے چھوٹے جاتے ہیں بھائی
(43)
غربت میں مبارک تمہیں ہمراہی-ِ-شبیر
کیا دیکھیے دامادوں کو دکھلاتی ہے تقدیر
مرنے کی اجازت نہیں دیتے شہ-ِ-دلگیر
تب کیا مجھے آئی کہ پڑی پاؤں میں زنجیر
لٹ جائے گا گھر بعد شہنشاہ-ِ-زماں کے
ہیہات! گلا ہووے گا حلقے میں رسن کے
(44)
اے اکبر-ِ-مہ-رو تجھے پاؤں گا کہاں میں
اے صفدر-ِ-خوش-خو تجھے پاؤں گا کہاں میں
اے زینت-ِ-پہلو تجھے پاؤں گا کہاں میں
اے قوت-ِ-بازو تجھے پاؤں گا کہاں میں
بے غسل-و-کفن آپ تو میدان میں رہیں گے
ہم بیڑیاں پہنے ہوئے زندان میں رہیں گے
(45)
بھیا یہ نقاہت میری اور بوجھ یہ گھر کا
کیا زور ہے جو حکم-ِ-شاہ-ِ-جن-و-بشر کا
عمو کا سہارا نہ تمہارا نہ پدر کا
غربت تو یہ اور سامنا اس لشکر-ِ-شر کا
گھر جلنے میں رہنے کا نہیں ہوش کسی کو
بچوں کو سنبھالوں کہ ناموس-ِ-نبی کو
(46)
اے راحت-ِ-جاں، یاور-و-غمخوار ہمارے
دلدار-و-مددگار-و-پرستار ہمارے
پہلے نہ چلی حلق پہ تلوار ہمارے
افسوس! ہوئے تم نہ عزادار ہمارے
ملتے ہیں کہاں ساتھ کے کھیلے ہوئے بھائی
فریاد کہ ہم آج اکیلے ہوئے بھائی
(47)
اللہ رے ان بھائیوں کی گریہ-و-زاری
جس طرح برستا ہے کبھی ابر-ِ-بہاری
ماں کہتی تھی قربان میں الفت کے تمہاری
بس صبر کرو تپ میں غش آ جائے گا واری
صحرا اسد اللہ کی جائی کو دکھائے
بھائی کا خدا داغ نہ بھائی کو دکھائے
(48)
غش آنے لگا جب تو کہا بھائی سے رو کر
کچھ ہم سے وصیت تو کرو اے علی اکبر
آہستہ کہاں جاتے ہیں بھائی سوئے کوثر
پانی جو ملے یاد ہمیں کیجو برادر
مر کر بھی پسر قبلہ-و-کعبہ کے قریں ہو
تربت میری پائین-ِ-مزار-ِ-شہ-ِ-دیں ہو
(49)
اس معرکہ سے جب ہو وطن آپ کا جانا
صغریٰ کو کئی بار کلیجے سے لگانا
کہنا کہ بہن پھر گیا بابا سے زمانہ
وعدہ تو کیا تھا پہ نہ تم تک ہوا آنا
شبیر پہ فوجوں کی گھٹا چھا گئی صغریٰ
آنے ہی کو ہم تھے کہ اجل آ گئی صغریٰ
(50)
یہ کہہ کے پھپھی پاس گئے اکبر-ِ-دلگیر
ہاتھوں کو بھی جوڑا کہ بجا لائیے تقصیر
منہ دیکھ کے مادر کا یہ کی یاس سے تقریر
دودھ آپ بھی بخشیں تو ملے عزت-و-توقیر
اس مردہ سے تن میں میرے جان آ گئی اماں
دو روز کی یہ پیاس ابھی بجھ جائے گی اماں
(51)
زینب نے کہا میں ہوں رضامند-و-ثنا-خواں
تقصیر تیری کچھ نہیں اے اکبر-ِ-ذیشاں
ماں بولی میں ان سوکھے ہوئے ہونٹوں کے قربان
لو دودھ بھی بخشا تمہیں ماں نے بدل-و-جان
آگے تیرے دنیا سے سفر کر نہ گئی ماں
یہ ذکر سنا ہائے غضب مر نہ گئی ماں
(52)
یہ سن کے تڑپنے جو لگی زینب-ِ-ناشاد
ہے ہے علی اکبر کی ہوئی رانڈوں میں فریاد
جس وقت چلا خیمے سے وہ غیرت-ِ-شمشاد
غل تھا کہ بہو فاطمہ کی اب ہوئی برباد
یوں گرد-ِ-حرم روتے تھے اس سرو-ِ-رواں کے
جس طرح کہ ماتم ہو جنازے پہ جواں کے
(53)
فضا نے جو پردہ در-ِ-دولت کا اٹھایا
خورشید-ِ-مبیں برج-ِ-شرف سے نکل آیا
ذرّوں پہ جو پڑنے لگا اس مہر کا سایا
چلّائی زمیں سب سے فزوں ہے میرا سایا
میں رتبے میں ہوں چرخ-ِ-چہارم سے زیادہ
خورشید میرے پاس ہیں انجم سے زیادہ
(54)
گیتی میری اس نور سے ہے طور-ِ-تجلّٰی
بھاری ہے ترازو کے فلک سے میرا پلّہ
دامن ہے میرا حور-و-ملائک کا مصلیٰ
مجھ پر وہ مرے جس کو علی سے ہے تولّٰی
تا حشر ہے یہ فیض شہنشاہ-ِ-ہُدیٰ کا
تسبیح میری ہوئے گی اور ذکر خدا کا
(55)
پہنچے جو قریں شاہ کے تو کی عرض کہ حضرت
اقبال سے مولا کے ملی جنگ کی رخصت
فرمایا کہ دیتی ہے چہرے کی بشاشت
مسعود وہ مبارک سفر-ِ-گلشن-ِ-جنت
مرضی ہو تو یہ پیری بھی دے ساتھ تمہارا
نبھ جائیں گے ہم تھامے ہوئے ہاتھ تمہارا
(56)
اکبر نے کہا آپ سلامت رہیں آقا
دنیا کا شرف، دولت-ِ-دیں، عزت-و-عقبیٰ
کوثر کی نہ خواہش ہے نہ جنت کی تمنا
ہوں میں فقط آب-ِ-دم-ِ-شمشیر کا پیاسا
توقیر ملے خلق میں ماں باپ کے آگے
مشتاق ہوں اس کا کہ مروں آپ کے آگے
(57)
نام آپ کے بابا کا ہے کونین میں شاہا
یاسین کہا حق نے، کہا ہے کہیں طٰہٰ
جو آپ نے طفلی میں کہا اس کو نبھایا
چاہا وہی مولا نے جو اللہ نے چاہا
قربان مجھے کیجیے یہ تمنائے دلی ہے
میراث-ِ-خلیل آپ کو حصے میں ملی ہے
(58)
فرمایا الہیٰ رہے پسر عاقل-و-دانا
ہے ذات-ِ-خدا قادر-و-قیوم-و-توانا
جو آیا ہے اک دن اسے درپیش ہے جانا
آگے کوئی پیچھے کوئی ہوتا ہے روانہ
وقفہ کبھی دن کا ہے تو عرصہ کبھی شب کا
جب طے ہوئی منزل تو مکاں ایک ہے سب کا
(59)
تھی صبح کہ احباب مسافر ہوئے سارے
دن دوپہر آیا تھا کہ عباس سدھارے
اب جاتے ہو تم بعد-ِ-زوال اے میرے پیارے
عرصہ نہیں کچھ آتے ہیں ہم بعد تمہارے
تم اور نہ بھائی نہ بھتیجا نہ پسر ہے
روتے ہیں ہم اس پر کہ ضعیفی کا سفر ہے
(60)
اک ہم ہیں کہ اس پیاس میں کام آئے ہیں سب کے
لاشے ہیں لے آئے شجاعان-ِ-عرب کے
فاقے سے کئی روز کے جاگے ہوئے شب کے
ہوتا تھا یہ ثابت کہ غش آ جائے گا اب کے
اعدا نے جہاں دوست کو مارا وہیں پہنچے
میدان میں ہمیں جس نے پکارا وہیں پہنچے
(61)
اتنا بھی کوئی میرا نہیں اے اکبر-ِ-مہ-رو
جب تیروں سے غربال کریں جسم جفا-جو
تلواروں سے مجروح ہو سر، تیروں سے پہلو
گھوڑے سے اتارے تو کوئی تھام کے بازو
پامال ہمیں لشکر-ِ-نا-اہل کرے گا
پر خیر یہ مشکل بھی خدا سہل کرے گا
(62)
ہر طرح گزر جائے گی اے اکبر-ِ-ذی-جاہ
پر الفت-ِ-اولاد سے عاجز ہے بشر، آہ
کچھ جان چلی جاتی ہے تن سے ترے ہمراہ
غش آتا ہے گرتے ہیں سنبھالو ہمیں للہ
بس پاس پسر ہو وہ جواں-بخت ہو بیٹا
یہ ہجر تو کچھ موت سے بھی سخت ہے بیٹا
(63)
کس طرح سنبھالوں کہ دل-ِ-زار نہ تڑپے
کچھ دل کی کہوں قلب جو اک بار نہ تڑپے
اس طرح کوئی مرگ-ِ-گرفتار نہ تڑپے
یوں مرتے ہوئے صاحب-ِ-آزار نہ تڑپے
تازہ غم-ِ-محبوب-ِ-خدا ہو گیا مجھکو
اب تک تو میں اچھا تھا یہ کیا ہو گیا مجھکو
(64)
گزری نہیں اس طرح کی ایذا کبھی دل پر
اے لال یہ صدمہ نہیں پہنچا کبھی دل پر
برچھی کبھی سینے پہ ہے نیزہ کبھی دل پر
گاہ دل ہے کلیجے پہ کلیجہ کبھی دل پر
اب اشکوں کی ندی بھی بہائی نہیں جاتی
وہ آگ لگی ہے کہ بجھائی نہیں جاتی
(65)
لو چھاتی سے لپٹو کہ قرار آئے جگر کو
فرزند نے خم ہو کے رکھا پاؤں پہ سر کو
حضرت نے کہا چھاتی سے لپٹا کے پسر کو
برباد کیے جاتے ہو اکبر میرے گھر کو
منظور یہ تھا ساتھ مروں، ساتھ فدا ہوں
پر خیر سدھارو کہ میں راضی بہ رضا ہوں
(66)
رخصت ہوئے جب شاہ سے علی اکبر-ِ-ذیشاں
گھوڑے پہ چڑھے آپ، کھلا رحل پہ قرآں
وہ رخش چھل بل، وہ ضیاائے رخ-ِ-تاباں
اک برق چمکتی ہوئی پہنچی سر-ِ-میدان
زردی رخ-ِ-خورشید پہ چھائی نظر آئی
پرتو سے زمیں رن کی طلائی نظر آئی
(67)
سب دشت بسا پھولوں سے بو تن کی جو پھیلی
فردوس میں مہمان-ِ-خدا جن کے طفیلی
نور ایسا جہاں چادر-ِ-مہتاب بھی میلی
گیسو وہ کہ مجنوں ہوں انہیں دیکھ کے لیلیٰ
اک عشق ہے ہونٹوں کے حلاوت-طلبوں کو
(68)
آنکھوں سے خجل آہو-ئے-چینی-و-ختائی
دونوں نے یہ چتون یہ سیاہی نہیں پائی
مردم کے لیے فخر ہے یاں ناصیہ-سائی
شیروں کو تپ آتی ہے دم-ِ-چشم-نمائی
یاں کچھ گل-ِ-با-دام حقیقت نہیں رکھتا
نرگس وہ کہے گا جو بصارت نہیں رکھتا
(69)
دیوانی ہوں پریاں نظر آئے جو یہ رفتار
گو شوق-ِ-شہادت ہے پہ عجلت نہیں زینھار
تھم تھم کے اٹھاتے ہیں قدم مردم-ِ-دیدار
پہنچا نہ سلیماں سے کبھی مور کو آزار
لازم ہے سدا پاس ضعیفوں کا قوی کو
دیکھا ہے کبھی شیر کی آہستہ-روی کو
(70)
پیشانی پہ ٹھہرے یہ نظر کو نہیں یارا
سجدے کا نشاں ہے کہ چمکتا ہے ستارا
دشمن کے لیے تیغ ہے ابرو کا اشارہ
پلکیں بھی ہیں خوں-ریزی-ِ-اعدا پہ صف-آرا
خال ایسے کہ اختر سبھی شرماتے ہیں جن سے
آنکھیں وہ ہرن شیر دبک جاتے ہیں جس سے
(71)
وہ شان وہ شوکت وہ طہور وہ جلالت
چھپتے ہیں کہیں جوہر-ِ-شمشیر-ِ-اصالت
طینت میں کرم، طبع میں انصاف-و-عدالت
اقبال-ِ-علی، شان-ِ-شہنشاہ-ِ-رسالت
دیکھا جو وہ رخ عرش کے سرتاج کو دیکھا
زلفوں کو جو دیکھا شب-ِ-معراج کو دیکھا
(72)
آمد تھی کجکلاہ-ِ-الٰہی کی رن میں جب
تھرا گئی زمیں، متزلزل تھا چرخ-ِ-کب
بولے کہ ہائے کون بچھڑتا ہے آج اب
لرزاں تھی فوج، کانپتے تھے مشرکین-ِ-سب
شبیر روئے دیکھ کے فرزند-ِ-پاک کو
تڑپا دیا ہے اکبر-ِ-عالی-تبار نے خاک کو
(73)
بھیگی ہیں مسیں، سبزہ-ٔ-خط بھی ہے نمودار
گویا کہ خضر آب-ِ-بقا کے ہیں طلب-گار
وہ فصل-ِ-شباب اور وہ رنگ-ِ-گل-ِ-رخسار
دنداں وہ سب الماس سے، لب لعل-ِ-گہر-بار
یاں جوڑے ہوئے ہاتھ فصاحت بھی کھڑی ہے
تقریر مسلسل ہے کہ موتی کی لڑی ہے
(74)
کس حسن سے لب پر ستائش-و-توحید کی
اعدا کو دکھاتے ہیں وغا بدر-و-احد کی
نعرہ ہے کہ حیدر نے رسولوں کی مدد کی
توڑا ہے در-ِ-خیلع کو شدت میں رمد کی
گردش کبھی واہی کبھی اونچا کیا سر سے
ہلکا تھا وہ در دست-ِ-مبارک میں سپر سے
(75)
تھا فوج کو خندق سے اترنے میں تامل
خندق کا اسی در کو بہادر نے کیا پل
جب تک نہ گئی فوج-ِ-نبی خیلع میں بالکل
تھامے رہے اک ہاتھ سے در صاحب-ِ-دُلدُل
وہ پائے مبارک تھے ہوا پر نہ زمیں پر
مولا کے قدم تھے پر-ِ-جبریل-ِ-امیں پر
(76)
تقسیم-ِ-غنیمت سے ہوئی جب کہ فراغت
پھر توڑ کے اس در کو لگے بانٹنے حضرت
فولاد ہوا موم، زہے زور-ِ-ولایت
کس میں تھی سوا بازو-ئے-احمد کے یہ طاقت
سب ٹکڑے برابر تھے، عجب عدل-و-کرم تھا
تولا تو جو بھر یہ زیادہ نہ وہ کم تھا
(77)
آغاز-ِ-رجز تھا کہ ہوئی تیروں کی بوچھار
شہزادہ-ٔ-عالم نے بھی لی میان سے تلوار
تلوار کا کھینچنا کہ تھا فوج میں رہوار
رہوار کی چل پھر میں صفیں پس گئیں دو چار
اس شان سے لخت-ِ-دل-ِ-شیر-ِ-صمد آیا
گؤیا صف-ِ-آہو پہ یکایک اسد آیا
(78)
ہلچل تھی کہ تلوار چلی فوج پہ سن سے
ڈھالیں تو رہیں ہاتھوں میں سر اڑ گئے تن سے
طائر بھی ہوا ہو گئے سب ظلم کے بن سے
آگے تھا ہرن شیر سے اور شیر ہرن سے
غل تھا یہ جری مثل-ِ-ید-اللہ لڑے گا
تر ہوگی زمیں خوں سے وہ رن آج پڑے گا
(79)
تلوار تھی جرّار کی یا قہر-ِ-خدا تھی
سر تھا تو الگ تھا، جو کمر تھی تو جدا تھی
بجلی جو ادھر تھی تو ادھر سیل-ِ-فنا تھی
تلوار بھی یوں سر پہ جب آئی تو قضا تھی
بے سر ہوئی وہ صف جو نظر چڑھ گئی اس کی
چاہا جو لہو اور بورش بڑھ گئی اس کی
(80)
جس صف میں چلی خون میں غلطاں کیا اس کو
مجمع تھا جدھر دم میں پریشاں کیا اس کو
جو آگے بڑھا غول سے بے جاں کیا اس کو
بخشی جسے جاں، بندہ-ٔ-احساں کیا اس کو
بے سر تھا ازل سے تھی خطا اصل میں جس کی
مارا اسے دیندار نہ تھا نسل میں جس کی
(81)
کیا ہاتھ تھا کیا تیغ تھی کیا ہمت-ِ-عالی
دم بھر میں نمودار صفیں ہوتی تھیں خالی
جب جھوم کے ڈھالوں کی گھٹا آتی تھی کالی
بجلی سی چمک جاتی تھی شمشیر-ِ-بلا-لی
ملتا تھا نشاں رن میں صفوں کا نہ پروں کا
تھا شور کہ مینہ آج برستا ہے سروں کا
(82)
آفاق میں جن کی قدر-اندازی کا تھا شور
ہاتھ ان کے پیادوں کی طرح ہو گئے کمزور
بے جاں کوئی سرکش کوئی بد کیش لب-ِ-گور
کر دیتی تھی تا بندگی برق-ِ-دو-دم-ِ-کور
سوفار کو چلے سے ملانا کسے سوجھے
رخ پھر گئے ہوں جب تو نشانہ کسے سوجھے
(83)
کیا حرب تھی قربان جگر-گوشہ-ٔ-شبیر
نکلا جو کماں سے تو قلم ہو کے گرا تیر
آیا جو کماں لے کے کمیں سے کوئی بے پیر
گوشہ تھا نہ چلّہ تھا نہ حلقہ تھا نہ زہگیر
جو دار تھا صفدر کا جدائی سے جدا تھا
قبضے سے کماں ہاتھ کلائی سے جدا تھا
(84)
یا شیر-ِ-خدا کہہ کے جب اعدا میں در آئے
انبار تن-و-سر کے دو رستہ نظر آئے
یوں غیظ-و-غضب میں ادھر آئے ادھر آئے
جیسے صف-ِ-آہو کی طرف شیر-ِ-نر آئے
جانوں کو بچاتے تھے پیادے بھی نہ ہٹ کر
گر پڑتے تھے گھوڑے بھی سواروں پہ الٹ کر
(85)
کٹ کٹ کے ہر اک ضرب میں سر گرتے تھے سر پر
برچھی پہ نہ پھل تھا نہ کوئی پھول سپر پر
پھر جاتی تھی گردن پہ کبھی گاہ جگر پر
مرکز کی طرح تھی کبھی دشمن کی کمر پر
نکلی جو کمر سے تو چلی خانہ-ٔ-زین پر
زین سے تھی جو مرکب میں تو مرکب سے زمیں پر
(86)
نہ خود نہ چہرہ یا جلم چھوڑتی تھی وہ
نہ ہاتھ نہ بیرق نہ علم چھوڑتی تھی وہ
نہ حلق نہ سینہ نہ شکم چھوڑتی تھی وہ
نہ خوں نہ رگیں تن میں نہ دم چھوڑتی تھی وہ
آ جاتی تھی آواز زہے ضرب کی زہ سے
غل تھا کہ یہ کڑیاں نہیں اٹھنے کی زرہ سے
(87)
واں شامیوں میں شب تھی ادھر نور کا تڑکا
قرنا کی وہ آواز وہ کڑکتیوں کا کڑکا
تڑپاتا تھا ہر قلب کو سر کٹنے کا دھڑکا
اک غل تھا کہ دو لاکھ پہ بھاری ہے یہ لڑکا
تن جلتے ہیں پھر کس سے جو برق اس میں نہیں ہے
سر جسم سے اڑ جائیں گے فرق اس میں نہیں ہے
(88)
اللہ رے زباں-آوری-ِ-تیغ-ِ-بلا-نوش
زر ہیں ہما تن چشم تھیں ڈھالیں ہما تن گوش
گھاٹ ایسا کہ ڈر سے لب-ِ-دریا بھی تھے خاموش
بڑھ ایسی کہ تھیں مچھلیاں پانی میں زرہ-پوش
کتنے تھے گلے تیز زبانی سے اسی کی
دریا بھی تھے چکر میں روانی سے اسی کی
(89)
تابیں وہ کہ شہ رگ کسی گردن میں نہ چھوڑیں
دشمن کا گلا خیلع-ِ-آہن میں نہ چھوڑیں
جوہر وہ کہ حلقہ کسی جوشن میں نہ چھوڑیں
پاسے وہ قیامت کے لہو تن سے نہ چھوڑیں
منہ وہ ہے کہ دم شاخ-ِ-خوں بہتی ہے جس کے
قبضہ وہ ہے قبضے میں ظفر رہتی ہے جس کے
(90)
بدلی کی طرح شام کی جب فوج گھر آئی
پھر تیغ نے بجلی صف-ِ-آرا پہ گرائی
دعوٰی تھا مگر بھول گئے ہر زہ در آئی
چلّاتے تھے بھاگو کہ وہ خوں خوار پھر آئی
ہر بار ہے موجود تو ہر بار نہیں ہے
یہ مرگ-ِ-مفاجات ہے تلوار نہیں ہے
(91)
شمشیر سے اک خیر-و-سے ہے شیر جو ہم نام
رعب اس نے یہ پایا ہے کہ تھرّاتے ہیں اندام
تھم جاتی ہے بجلی مگر اس کو نہیں آرام
گیتی کو الٹ دے یہ قیامت ہے وہ صمصام
مریخ لرزتا ہے تو جوہر سے اسی کے
شیروں کے چڑھی رہتی ہے تپ ڈر سے اسی کے
(92)
چار-آئینہ یوں کٹتے تھے ایک ایک جواں کے
جس طرح کہ مہتاب میں ٹکڑے ہوں کتاں کے
سہمے تھے کمانداروں کے دل خوف-ِ-جاں کے
چلّہ نہ کھینچا تھا کہ یہ تھی سر پہ کماں کے
چلّاتے تھے سب مثل-ِ-اجل آتی ہے یہ تو
سیفی سے بھی جلدی کہیں چل جاتی ہے یہ تو
(93)
لڑنے جو بڑا بول کوئی بول کے آیا
یہ شیر بھی شمشیر-ِ-دو-دم تول کے آیا
شہباز-ِ-اجل صید پہ پر کھول کے آیا
اڑتا ہوا سر بیچ میں اس گول کے آیا
حق جس کی طرف وہ زبردست رہا ہے
سچ ہے کہ بڑے بول کا سر پست رہا ہے
(94)
ہم چشم تھا ابرو سے حسینیوں کا خم اس کا
اللہ رے چمک برق بھی بھرتی تھی دم اس کا
ناگن تھی اترتا ہی نہ تھا چڑھ کے سم اس کا
ہر ہاتھ میں ہاتھ اس کا تو بازو قلم اس کا
جوہر کی چمک دیکھی نہ ہیروں کی نگوں میں
یوں دوڑتی تھی تن میں لہو جیسے رگوں میں
(95)
اک برق سی گرتی تھی ہر اک دست-ِ-جاں پر
گہ سر پہ کبھی ڈھال پہ اور گاہ سنا پر
ترکش پہ کبھی سن سے کبھی گاہ کماں پر
کس طرح بھلا ذکر-ِ-بورش لاؤں زباں پر
دل سے کہیں جینے کی ہوس قطع نہ ہو جائے
دم بند ہے ڈر سے کہ نفس قطع نہ ہو جائے
(96)
لوہے سے اسی تیغ کے آئینہ بنے گر
عکس اس میں جو دشمن کا نظر آئے تو بے سر
پائے نہیں اب تک کسی حربے یہ جوہر
ذکر اس کی بورش کا جو مسافر کے ہو لب پر
قطع-ِ-طریق آئے تو وہ خوف سے ہٹ جائے
کیسی ہی کڑی راہ ہو اک آن میں کٹ جائے
(97)
معشوق کو عاشق سے جدا کرتی تھی شمشیر
ہر آن اکبر کا ادا کرتی تھی شمشیر
جھکتی تھی جدھر حشر بپا کرتی تھی شمشیر
جب اٹھتا تھا سر حمد-ِ-خدا کرتی تھی شمشیر
مریخ بھی دل باختہ تھا سامنے اس کے
گردوں سپر انداختہ تھا سامنے اس کے
(98)
ہلچل میں یہ صف گرتی تھی جب صف پہ ادھر کی
نہ ہوش تھا تن کا نہ خبر تیغ-و-سپر کی
بھولا ہوا تھا باپ محبت کو پسر کی
جاگے تو یہ سمجھے کہ ہمیں پاؤں نے سر کی
مرتے تو لہو تیغ کی گردن پہ نہ ہوتا
کرتے نہ مدد پاؤں تو سر تن پہ نہ ہوتا
(99)
سو سو کا سڑاک ضرب میں کہتے نہیں دیکھا
یوں غیظ میں شیروں کو جھپٹتے نہیں دیکھا
بڑھ کر کبھی جرّار کو ہٹتے نہیں دیکھا
گھوڑے کو کسی باگ پہ پھٹتے نہیں دیکھا
جب ہاتھ اٹھا برچھیوں پھر آتا ہے گھوڑا
پتلی کے اشارے کو سمجھتا ہے گھوڑا
(100)
آفت میں رمانا تھا تلاطم میں خدائی
چلّاتی تھیں پریاں کہ سلیماں کی دہائی
دکھلا گئی تیغ اپنی بورش سر پہ جب آئی
ہر صف کو دکھا دیتا ہے ہاتھ اپنی صفائی
وہ چور تھا ٹاپوں سے جو توسن پہ چڑھا تھا
اسوار تو اسوار فرس رن پہ چڑھا تھا
(101)
ہر لعل تھا غیرت دہ-ِ-تیغ-ِ-صفہانی
جب ٹاپ پڑی خاک سے پیدا ہوا پانی
کف منہ سے گراتا یہ غضب کی تھی نشانی
تیزی یہ ہوا میں تھی نہ دریا میں روانی
یوں رکھتا تھا آہستہ قدم دوش-ِ-صبا پر
یوں گل تری جاتی ہے جس طرح ہوا پر
(102)
سرعت میں تگ-و-دو میں چلاوے سے زیادہ
باگ اس کی تھی کیا جو دل-ِ-راکب کا ارادہ
دریا پہ سمجھتا تھا ہر ایک موج کو جادہ
تیار کھنل تنگ کمر سینہ کشادہ
شعلہ ہوا پس کا جو ذرا غیظ میں آکے
بجلی کو رگیں آگ کا دم پاؤں ہوا کے
(103)
جب خاک پہ کھنگل میں قدم رکھتا تھا تن کے
سر اپنا شپک دیتے تھے طاؤس چمن کے
رشک-ِ-مہ-ِ-نو چاند گردن-ِ-پُر-نور کے منکے
جم جم کے اڑا دہ تو اڑے ہوش ہرن کے
پامال ہوا جاتا تھا دل کبک-ِ-دری کا
گھوڑے کے اچانک کہ جھکڑا تھا پری کا
(104)
کر لاکھ مدد گردش-ِ-ایّام کو پہنچے
کب سرعت-ِ-شبدیز سبک-گام کو پہنچے
واں پہنچے یہ اور صبح نہ اور شام کو پہنچے
جس بن میں نسیم-ِ-سحری شام کو پہنچے
دفعہ کہیں یہ اسپ-ِ-سبک پہ نہیں کرتا
خورشید بھی منزل کوئی یوں طے نہیں کرتا
(105)
گر آگ کہوں آگ بہ سرعت نہیں رکھتی
گر کہیے ہوا وہ یہ حرارت نہیں رکھتی
گر برق کہوں برق یہ جودت نہیں رکھتی
گر حور کہوں حور یہ صورت نہیں رکھتی
یاں قدر نہ بجلی کی نہ کچھ پیک-ِ-ہوا کی
بس خامہ-ٔ-اس پر ہے کہ قدرت ہے خدا کی
(106)
پریوں کی بھی اس طرح سواری نہیں چلتی
ان پھیریوں سے باد-ِ-بہاری نہیں چلتی
اس زور سے تلوار دو باری نہیں چلتی
چلتے ہیں قدم یوں کہ کٹاری نہیں چلتی
دو گام بھی ساتھ اس کے زین چل نہیں سکتی
اس طرح یہ چلتا ہے کہ بس چل نہیں سکتی
(107)
جس وقت وغا کا نہ رہا ایک کو یارا
خیمے سے نکل کر پسر-ِ-سعد پکارا
دو لاکھ نے بھی مل کے نہ ایک طفل کو مارا
اب چادریں اوڑھو کہ مٹا نام تمہارا
جی ہار دیا فوج نے عزت گئی سب کی
لے آب ہوئی آج سے تلوار ضرب کی
(108)
یہ سنتے ہی غیظ ایک یل-ِ-غدار کو آیا
میدان میں اڑاتا ہوا رہوار کو آیا
کس غیظ سے تولے ہوئے تلوار کو آیا
دلبر-ِ-ید-اللہ سے پیکار کو آیا
کاندھے پہ سپر، لب پہ سخن بے ادبی کے
ظالم کو عداوت تھی گھرانے سے نبی کے
(109)
رستم کی ترہا اپنے تن-و-توش پہ غرّا
خورشید پہ غالب کبھی ہوتا نہیں ذرّہ
بدکار جہاں حسن لیا قد سے معرّا
گردن تھی ازل سے تہ-ِ-شمشیر-ِ-تبرّا
پُر ہول ہو راستہ وہ سیاہ رو جو گزر جائے
صورت وہ کہ عفریت جسے دیکھ کے ڈر جائے
(110)
وہ خود تہم تن سے بھی جس کا نہ اٹھے بار
چار-آئینہ اک خیلع-ِ-فولاد کی دیوار
اژدر تو خود اور مار-ِ-سیاہ نیزہ-و-خوں-خوار
وہ گرز-ِ-گراں-سر جو کرے کوہ کو مسمار
خنجر وہ کہ مریخ کا رنگ اڑتا تھا جس سے
ڈھال ایسی کہ تلوار کا منہ مڑتا تھا جس سے
(111)
قاتل نے رجز پڑھ کے تگادار کو نکالا
اکبر بھی بڑھے، چلنے لگا بھالے پہ بھالا
اژدر تھے زبانوں کو نکالے تہ-و-بالا
گردن کو لڑائے ہوئے تھا کالے سے کالا
پڑتی تھی سنا پر جو سنا دشت-ِ-وغا میں
چنگاریاں اڑتی نظر آتی تھیں ہوا میں
(112)
ہر تاں میں یاں مڑ گئے واں اڑ گئے رہوار
نقطے یہ سمیٹنے میں وہ پھر جانے میں پرکار
چومے جو کئی کھا کے جھپکنے لگا غرّار
نیزے کو اڑا لے گیا نیزے سے وہ جرّار
کیا بند بندھے لخت-ِ-دل-ِ-عقدہ-کشا پر
دیکھا تو سنا خاک پہ تھی، ڈانڈ ہوا پر
(113)
غصے میں کماں لے کے بڑھا سرکش-ِ-بے-پیر
سر پر تھا عقاب-ِ-علی-اکبر صفت-ِ-تیر
پنجہ تھا کہ سر پنجہ-ٔ-ضرغام-ِ-عدد-گیر
غل تھا زہے زور-ِ-جگر-گوشہ-ٔ-شبیر
یا دیکھتی تھی فوج فرس کی تگ-و-دو کو
یا پنجہ-ٔ-خورشید میں دیکھا مہ-ِ-نو کو
(114)
پھر گرز-ِ-گراں شیر کو غدار نے مارا
اس ضرب کو روک کر کے بڑھا شاہ کا پیارا
چمکا جو تبر، ملک الموت پکارا
لو قطع ہے اب نقل-ِ-حیات-ِ-ستم-آرا
شیروں کے جگر کانپ گئے خوف سے بر میں
دو ٹکڑے ہوا گرز-ِ-گراں ایک تبر میں
(115)
خفت ہوئی جھٹکے کئی ظالم نے جو کھائے
پیسے کبھی دانت اور کبھی ہونٹ چبائے
روباہ ظفر شیر پہ کس طرح سے پائے
پھر گرد سے خاک اڑ کے اگر عرش پہ چھائے
ہاں سر کا شرف پاؤں کو حاصل نہیں ہوتا
اسفل کبھی اعلیٰ کے مقابل نہیں ہوتا
(116)
اکبر نے کہا خیر تھکا گر ہے تو دم لے
بے تیرے بڑھے وار کریں ہم تو قسم لے
دم لے کے بس اب میان سے شمشیر-ِ-دو-دم لے
کیا کرتے ہیں ہم دیکھ ذرا شیروں کے حملے
ناخن جو نہ ہو عقدہ-ٔ-مشکل نہیں کھلتا
جب تک کہ نہ تلوار کھینچے دل نہیں کھلتا
(117)
مرغوب ہے درہم کی نہ دینار کی جھنکار
بھاتی ہے نہ زنجیر کی، نہ تار کی جھنکار
دلچسپ نہیں ظرف-ِ-طلاکار کی جھنکار
کانوں کو بھلی لگتی ہے تلوار کی جھنکار
وارستہ اسی کی ہے زرہ، ڈھال اسی کی
کتنے ہیں گلے جس کے، یہی چال اسی کی
(118)
ہے طول-ِ-عمل نیزہ-ٔ-خفی کا ہلانا
کرتی ہے کماں تیر سفاہت کا نشانہ
گرز ہے فقط بار-ِ-گراں دوش پہ لانا
لوہے کو مگر تیغ کے مانے ہے زمانہ
ایسا کوئی منصف ہے عرب میں نہ عجم میں
جب کھنچ گئی تلوار تو ہے فیصلہ دم میں
(119)
خوشتر ہے خم اس کا خم-ِ-ابروئے-صنم سے
بت اس نے نکالے ہیں اشارے میں حرم سے
پایا ہے راہ-ِ-راست کو تلوار کے خم سے
سیکھے کوئی آتش-نفسی تیغ-ِ-دو-دم سے
دشمن جو بڑھے تاب کہاں رہتی ہے اس کو
سیفی کی دعا ورد-ِ-زباں رہتی ہے اس کو
(120)
تلوار سے کانپا کیے کفار-ِ-عرب سب
دنیا سے جہنم کو کیے عنتر-و-مرحب
سر تا بہ قدم عمرو بھی تھا جہل-ِ-مرکب
ظلمت نہ رہی کفر کی وہ قتل ہوا جب
نصرت تھی جدھر تیغ چلی حق کے ولی کی
اللہ نے کی آپ ثنا ضرب-ِ-علی کی
(121)
سرسبز کیا گلشن-ِ-اسلام اسی نے
کعبے سے جدا کر دیے اصنام اسی نے
شاہوں کو دیے موت کے پیغام اسی نے
قبضے میں کیا روم سے تا شام اسی نے
کانپا کیے خاقان-ِ-جہاں حرب سے اس کی
جاری ہوا سکے کا چلن ضرب سے اس کی
(122)
آفاق میں ہے دبدبہ-ٔ-شاہی کا اسی سے
آغاز ہے ملکوں کی تباہی کا اسی سے
اقبال چمکتا ہے سپاہی کا اسی سے
بیٹھا ہے عمل شیر-ِ-الٰہی کا اسی سے
یااد ان کو نہ بھولی کوئی دم تیغ-ِ-علی کی
جبریل بھی کھاتے ہیں قسم تیغ-ِ-علی کی
(123)
چار-آئینہ مردوں کے لیے دفع-ِ-ضرر ہے
جوہر ہے زرہ، قبضہ-ٔ-شمشیر سپر ہے
گہ ہاتھ کی زینت ہے گہ زیب-ِ-کمر ہے
رکھ لیجیے پہلو میں تو آرام-ِ-جگر ہے
خوش قدر ہے خوش اسلوب ہے، خوش ہے حسیں ہے
جب یہ ہو تو حاجت کسی حربے کی نہیں ہے
(124)
جب تیزی-ِ-شمشیر-ِ-زباں اس کو دکھائی
ٹھنڈا تو ہوا تھا پہ حرارت بھی کچھ آئی
تلوار علم کر کے جو ڈھال اس نے اٹھائی
معلوم ہوا تیرہ گھٹا کوہ پہ چھائی
خورشید ہوا زرد اڑی گرد یہ بن کی
گھوڑے کی تگ-و-دو سے زمیں ہل گئی رن کی
(125)
شبدیز کو اکبر نے بھی کاوے پہ لگایا
واں سے بھی تڑپ کر فرس-ِ-تیز-تگ آیا
منہ کھولے ہوئے شیر پہ حملے کو سگ آیا
پر دب کے الگ ضد سے گیا اور الگ آیا
لاتی تھی اجل کھینچ کے شمشیر کے منہ پر
آ سکتا ہے روباہ کہیں شیر کے منہ پر
(126)
اکبر نے صدا دی کہ ٹھہر سامنے آکر
کیوں منہ کو چھپاتا ہے سپر چہرے پہ لاکر
مردہ نہ دکھا وار، حریفا نہ وغا کر
کچھ اپنے رسالے کے جوانوں سے حیا کر
نادان ہے تمیز-ِ-حق-و-باطل نہیں رکھتا
تو ایسے تن-و-توش پہ کچھ دل نہیں رکھتا
(127)
یہ خوف کہیں جان نہ گھبرا کے نکل جائے
بودا ہے جو لڑنے کی جگہ پا کے نکل جائے
ایسا نہ ہو تلوار کوئی کھا کے نکل جائے
پنجے سے نہ شیروں کے شکار آ کے نکل جائے
ایک جا صفت-ِ-سایہ-ٔ-آہو نہیں تھمتا
سیماب ٹھہر جاتا ہے پر رو نہیں تھمتا
(128)
تجھ سا تو جواں لشکر-ِ-بد-خو میں نہیں ہے
ہاں زور-ِ-شجاعت تیرے بازو میں نہیں ہے
گھوڑا ہے یہ چالاک پہ قابو میں نہیں ہے
فوجیں ہیں ادھر یاں کوئی پہلو میں نہیں ہے
ہم ایک ہیں جانباز کہ فوجوں سے لڑے ہیں
کیا تجھ کو کہیں گے جو صفیں باندھے کھڑے ہیں
(129)
نیزے کے ہلانے میں بھی تو زور کو ہارا
کیوں میں نے کماں پھینک لی اور تیر تمہارا
اک ضرب-ِ-تبر تھی ہوا گرز دو پارا
لڑنے پہ تبر ہے تیرے دستم آرا
آ تیغ جوانان-ِ-خوش-اقبال کے اوپر
چہرے کو چھپاتا ہے جلم ڈال کے منہ پر
(130)
یہ سن کے بڑے غیظ-و-غضب میں وہ یل آیا
اکبر نے کہا آ کہ مقام-ِ-اجل آیا
بار-ِ-شجر-ِ-جرأت-و-ہمت میں پھل آیا
بس روک لے بودے کہ فرس منہ کے بل آیا
یہ پھولنے پھلنے کی مگر فصل نہیں ہے
گر پڑتا جلدی تیری کچھ اصل نہیں ہے
(131)
تلواریں کھنچیں برچھیاں چمکیں علم اٹھے
گھوڑوں کے تگ-و-پو ہیں برابر قدم اٹھے
نظارہ کو گردوں پہ ملائک باہم اٹھے
گر گر ادھر خاک پہ شاہ-ِ-امم اٹھے
اکبر جو مقابل ہوئے اس زال-و-مضل سے
شبیر قریب آ گئے بے تابی-ِ-دل سے
(132)
چلّائے کہ اے میرے بہادر تیرے قرباں
یہ پیاس کئی روز کی یہ دھوپ یہ میدان
کچھ یہ جنوں سے بھی قوی تیری ہے میری جاں
اس دیو پہ اللہ ظفر دے تمہیں اس آن
کیا پیاس بہت ہے کہ پکارا نہیں جد کو
اب دل نہیں قابو میں ہم آتے ہیں مدد کو
(133)
رونے لگے اکبر یہ صدا سن کے پدر کی
جوڑے ہوئے ہاتھوں کو رخ-ِ-شاہ پہ نظر کی
کی عرض دعا بس ہے شاہ-ِ-جن-و-بشر کی
اس وقت نہیں پیاس قسم آپ کے سر کی
غازی ہیں علم تشنہ-دہانی کا نہیں ہے
اس شکل میں کچھ دھیان بھی پانی کا نہیں ہے
(134)
تشویش نہ فرمائیے میں نے اسے مارا
آیا ہے تو جاتا ہے کہاں یہ ستم آرا
مرحب کی طرح طول میں کرتا ہوں دو پارا
اللہ کی تائید ہے مولا کا سہارا
اس دیو سے میں سورہ-ٔ-جن پڑھ کے لڑوں گا
(135)
ہر چند سن اس کا ہے زیادہ میرے سن سے
پانی بھی لبوں تک نہیں پہنچا کئی دن سے
بیزاری ہے جن-و-ملک-و-انس کو ان سے
ہم وہ ہیں کہ جاں بر نہ ہوئے دیو بھی جن سے
اس جاہ کے اژدر بھی چرائے ہیں دم اب تک
مشہور افسانہ-ٔ-بئر-العلم اب تک
(136)
خادم کی لڑائی نہیں کچھ قابل-ِ-تعریف
آقا کی کرم سے ہے بہت پیاس میں تنزیف
غم یہ ہے کہ مولا کو نہایت ہوئی تکلیف
ہے دھوپ کڑی، سائے میں لے جائیے تشریف
گردن ہے تہ-ِ-تیغ اب اس عبد-ِ-جو کی
چھینٹیں نہ پڑیں قبلہ-ٔ-عالم پہ لہو کی
(137)
حضرت نے کہا خیر خدا حافظ-و-ناصر
جرأت میں نہ تم کم ہو نہ میں صبر میں قاصر
یہ بیکس-و-بے-پر ہے مدد کرنے کو حاضر
دب جائے گا ادنیٰ سے بھی ادنیٰ ہے یہ کافر
تیور کہیں چھپتے ہیں شجاع-ِ-ازلی کے
اعلیٰ سے تم اعلیٰ ہو کہ پوتے ہو علی کے
(138)
ہاں داہنی طرف آنے نہ دیجو اسے زنھار
گھوڑے کو بڑھائے ہوئے روکے ہوئے تلوار
مغرور تن-و-توش پہ اپنے ہے یہ غدار
خود منہ کے بل آئے گا جو خالی گئے دو وار
دشمن جو لڑے جم کے تو پھر لطف سوا ہے
ہاں تھام لو باگ اس کے فرس کی تو مزہ ہے
(139)
یہ سن کے بڑھا جنگ کو وہ شیر-ِ-نرینہ
پہنچا تھا جسے زور-ِ-علی سینہ بہ سینہ
شوکت وہی سب تھی وہی حملے کا قرینہ
شبدیز پہ تھے آپ کے خاتم پہ نگینہ
یوں سینہ کشادہ گئے اس عہد-شکن پر
جس طرح جھپٹتا ہے کبھی شیر ہرن پر
(140)
لڑ جانا وہ ڈھالوں کا وہ تلواروں کی جھنکار
آفت کی لڑائی تھی قیامت کا ہر اک وار
مرحب تھا ادھر اور ادھر حیدر-ِ-کرار
تلوار پہ تلوار تھی رہوار پہ رہوار
بجلی سی فزوں تھی تڑپ آتش-نفسوں کی
اسوار تک آ جاتی تھی ٹاپیں فرسوں کی
(141)
مہمیز پہ مہمیز تھی اور کوڑے پہ کوڑا
ہر مرتبہ منہ ڈالتا تھا گھوڑے پہ گھوڑا
کل پھر گئی جس باگ پہ جس نے جسے موڑا
زخمی ہوئے پر کھیت کو دونوں نے نہ چھوڑا
اس روز سے تیروں کی بھی سرعیاں نہیں چلتی
یوں جھوم کے چلتے تھے کہ پریاں نہیں چلتی
(142)
سن لے جو وہ تلوار گھنی سن سے پھر آئی
وہ خود سے ملتی ہوئی گردن سے پھر آئی
وہ کھینچ کے سپر سے گئی جوشن سے پھر آئی
وہ صید سے خالی گئی توسن سے پھر آئی
ہاں بعد-ِ-علی کم ہوئی جنگ-و-جدل ایسی
غل تھا کبھی دیکھی نہیں رو دبدل ایسی
(143)
غصے میں جو سفاک نے کی رخش کو مہمیز
شہزادے کے گھوڑے کے قریب آ گیا شبدیز
بس تھام لی اکبر نے عنان-ِ-فرس-ِ-تیز
جھپکا تھا وہ گھوڑا کہ چلی تیغ-ِ-شرر-ریز
ہوش اڑ گئے اس بانی-ِ-بے-درد-و-ستم کے
سر کٹ کے گرا فرق پہ چالیس قدم کے
(144)
تازی کی عنان چھوڑ کے اک ہاتھ جو مارا
چاروں سم-ِ-رہوار کٹے صاف قضا را
گھوڑا جو گرا دشت-ِ-ستم ہل گیا سارا
بس چور ہوا پس کے وہ کافر ستم آرا
دکھلا دیا صفدر نے جو ارشاد-ِ-پدر تھا
نہ پاؤں تھے گھوڑے کے نہ اسوار کا سر تھا
(145)
مصروف تھے لڑنے میں ادھر اکبر-ِ-دلگیر
بیتاب تھے تھامے ہوئے دل حضرت-ِ-شبیر
تھراتے تھے ہاتھ اور زباں پر تھی یہ تقریر
یہ سب تیری تائید ہے اے مالک-ِ-تقدیر
بیکس تیرے بندے پہ عجب وقت پڑا ہے
یا رب یہ پسر تیسرے فاقے میں لڑا ہے
(146)
ہفتم سے ہے پانی کا تلاطم میرے گھر میں
نہ شجر میں پانی کا ٹھکانا تھا نہ بر میں
دے صبر کہ بیتاب نہ ہوں ہجر-ِ-پسر میں
لوٹا ہے مجھے امت-ِ-احمد نے سفر میں
فرزند-ِ-جواں باپ سے منہ موڑ رہا ہے
چھوٹا جو ہے گہوارے میں دم توڑ رہا ہے
(147)
طالب نہیں اس کا کہ سلامت یہ پھر آئے
مجروح تیری راہ میں ہو برچھیاں کھائے
خادم کے بزرگوں کا جو منصب ہے وہ پائے
جرأت جو دکھائی ہے تو غربت بھی دکھائے
دنیا سے پُر ارمان سفر کرنے پہ روئیں
سب پیر-و-جواں اس کے جوان مرنے پہ روئیں
(148)
یہ کہہ کے علی اکبر-ِ-مہ-رو کو پکارے
احسنت میرے شیر میرے پیاس کے مارے
ٹھہرو کہ پدر چومے ہاتھوں کو تمہارے
خالی ہے علمدار کی جا اے میرے پیارے
جعفر اسی کس بل سے اسی ڈھب سے لڑے تھے
خیبر میں علی بھی یونہی مرحب سے لڑے تھے
(149)
بوسیدہ ہوا شاہ کی صدا سن کے وہ جرّار
مجرا کیا رہوار سے جھک جھک کے کئی بار
کی عرض شہادت کی دعا کا ہوں طلبگار
اب پیاس نے مارا مجھے یا سید-ِ-ابرار
گرمی سے غش آتا ہے جھکا جاتا ہے سر بھی
ہتھیار بھی سب گرم ہیں جلا ہے جگر بھی
(150)
قوت کا ہوا ضعف گھٹا زور-ِ-جوانی
اب دیتی ہے پیغام-ِ-اجل تشنہ-دہانی
ہے دھوپ کڑی اے اسد اللہ کے جانی
جان آئے زرہ پر جو چھڑک دے کوئی پانی
سنبھلوں تو بھگا دوں ابھی اس لشکر-ِ-شر کو
ایسی ہو کوئی چیز کہ ٹھنڈک ہو جگر کو
(151)
حضرت نے کہا پانی کا ملنا تو ہے دشوار
اب دور کرو خود سے کیا تم کو سروکار
جلتی ہے زرہ گر تو اتارو میرے دلدار
کافی ہے لڑائی میں جواں مرد کو تلوار
رہنے دو جو ہو دھوپ میں آرام سپر سے
جو سینہ سپر ہو اسے کیا کام سپر سے
(152)
کہنے کو کہا یہ پہ ہوا دل تہ-و-بالا
یک سیب-ِ-تر-و-تازہ گریبان سے نکالا
بولا یہ اسے سونگھ کے وہ گیسوؤں والا
فرزند میں جاں آ گئی اے سید-ِ-والا
اعجاز-ِ-امامت شہ-ِ-خوش-خو نے دکھایا
پانی کا اثر سیب کی خوشبو نے دکھایا
(153)
اس سیب میں بو کی ثنا کا کسے یارا
دید اس کی ہے یوسف کے زنخدان کا نظارہ
اٹھے گر اس کی طرف انگشت اشارہ
اللہ رے طاقت کہ وہ ہو جائے دو پارا
بہتر کوئی سیب اس سے نہیں خلد-ِ-بریں میں
لو آج تک اس کی ہے مزار-ِ-شہ-ِ-دیں میں
(154)
تسلیم اور اسپ صبا دم کو اڑا کر
پھر ڈوب گیا فوج میں وہ شیر-ِ-دلاور
یاں بیٹھ گئے تھام کے دل سبط-ِ-پیمبر
واں شام کے بادل میں گھرا ماہ-ِ-انور
روزن ہوئے اتنے کہ زرہ بن گیا سینہ
(155)
ٹکڑے ہوئے تیغوں سے پہ ہمت کو نہ ہارے
مجروح نے اسی نفر اسی فوج کے مارے
صحرا میں کبھی تھے کبھی دریا کے کنارے
پھر دیکھ گئے باپ کو پھر رن کو سدھارے
روکے نہ پدر قتل ہو لخت-ِ-جگر ایسا
باپ ایسا ہو صابر تو جری ہو پسر ایسا
(156)
کانپتے تھے لڑائی میں نبی کی جانب سے
تیر لگنے سے برچھی سے چھلنی بدن سے
لکھا ہے مکیں میں تھا کوئی ظالم-ِ-بے-پیر
برچھی جو لگی سینے میں حالت ہوئی تغیر
اللہ رے شجاعت کہ نہ ابرو پہ بل آیا
پھل اس نے جو کھینچا تو کلیجہ نکل آیا
(157)
ٹکڑے جو بہے خوں کے و دیدوں میں جگر کے
غش ہو گئے سر گردن-ِ-رہوار پہ دھر کے
نزدیک سے پھر وار چلے تیغ-و-تبر کے
سب پسلیاں کٹ کٹ گئیں ٹکڑے ہوئے سر کے
تلواریں تھیں یا آپ تھے یا سر پہ خدا تھا
جس ہاتھ سے لڑتے تھے وہ پہنچوں سے جدا تھا
(158)
جس وقت ہوا دینے لگا زخم جگر کا
سینے میں رکا آکے دم اس رشک-ِ-قمر کا
گرتے ہوئے گھوڑے سے خیال آیا پدر کا
چلّائے کہ اب کوچ ہے دنیا سے پسر کا
بیکس کی مسافر کی مدد کیجیے بابا
اپنے علی اکبر کی خبر لیجیے بابا
(159)
بیٹے کی صدا سن کے ہوا صدمہ-ٔ-جاں-کاہ
اک ہوک کلیجے میں اٹھی بیٹھ گئے شاہ
معلوم ہوا جان چلی آہ کے ہمراہ
دل تھام کے ہاتھوں سے کہا یا اسد اللہ
ماں باپ کے سینے کا مزہ لے گئے بیٹا
وہ عہدہ جو تمہارا تھا ہمیں دے گئے بیٹا
(160)
چلّائے بتاؤ علی اکبر کدھر آئیں
ڈھونڈیں تمہیں اس شجر میں یا سوئے بر آئیں
بیتاب ہے دل قلب میں لشکر کے در آئیں
تم آ نہیں سکتے تو ہمیں لاش پر آئیں
رنگ اڑ گیا تھا گیسوؤں پر گرد-ِ-غم تھی
تیورا کے جو سنبھلے تو بصارت میں کمی تھی
(161)
بیٹا ہمیں پھر یا ابتا کہہ کے پکارو
مظلوم غریب الغربا کہہ کے پکارو
ناشاد گرفتار-ِ-بلا کہہ کے پکارو
لب تشنہ-و-مجروح-ِ-جفا کہہ کے پکارو
جو وقت معین ہے وہ ہرگز نہ ٹلے گا
خنجر میری گردن پہ اسی طرح چلے گا
(162)
مہ رو علی اکبر علی اکبر علی اکبر
دلجو علی اکبر علی اکبر علی اکبر
گل رو علی اکبر علی اکبر علی اکبر
خوش خو علی اکبر علی اکبر علی اکبر
اس عمر کا پودا کوئی بے برگ نہ ہووے
تجھ سا کوئی دنیا میں جواں-مرگ نہ ہووے
(163)
اٹھارواں یہ سال یہ غربت یہ جوانی
یہ شان یہ اقبال یہ شوکت یہ جوانی
دیکھی تھی نہ اب تک یہ شجاعت یہ جوانی
یوں خاک ہوئی ہائے یہ صورت یہ جوانی
کس طرح مشابہ تھے رسول-ِ-عربی سے
گویا کہ حسین آج بچھڑتا ہے نبی سے
(164)
لے آئی جو بے تابی-ِ-دل لاش-ِ-پسر پر
جھکنے میں نظر پہلے پڑی زخم-ِ-جگر پر
اک تیر لگا قلب-ِ-شہ-ِ-جن-و-بشر پر
سینے پہ کبھی ہاتھ کو مارا کبھی سر پر
اوپر کے دم اس شیر کو بھرتے ہوئے دیکھا
بابا نے جواں بیٹے کو مرتے ہوئے دیکھا
(165)
ہونٹوں پہ زباں، رخ پہ عرق، خاک پہ گیسو
پتھرائی ہوئی آنکھ، کٹے تیغوں سے ابرو
گردن تو کج اور حلق پہ اک تیر سا پہلو
چہرے پہ لہو، گالوں پہ ڈھلتے ہوئے آنسو
یہ زیر-ِ-لب آواز کہ آقا نہیں آئے
نزدیک اجل آ گئی بابا نہیں آئے
(166)
اے درد-ِ-جگر تھم کہ شہ-ِ-بحر-و-بر آ لیں
اے جان نہ گھبرا شہ-ِ-جن-و-بشر آ لیں
اے روح توقف شہ-ِ-والا ادھر آ لیں
اے موت ٹھہر جا، پدر آ لیں آ لیں
ارمان-ِ-دل-ِ-زار-ِ-پسر ہوش میں نکلے
حسرت ہے کہ دم باپ کے آغوش میں نکلے
(167)
چلّائے شہ-ِ-دیں علی اکبر پدر آیا
اٹھو میرے پیارے میرے دلبر پدر آیا
تم ڈھونڈتے تھے اے مہ-ِ-انور پدر آیا
ناشاد پدر بیکس-و-بے-پر پدر آیا
کچھ دل کی کرو بات ذرا ہوش میں آؤ
صدقے پدر آؤ میری آغوش میں آؤ
(168)
منہ کھولے ہو کیوں تیر کو گردن سے نکالوں
گرد-ِ-دہن-و-ہاتھوں سے بازو کو سنبھالوں
گرتا ہے پہاڑ اس کو میں کس طرح سے ٹالوں
مرتے اسے دیکھوں جسے آغوش میں پالوں
بہہ بہہ کے لہو میں جگر آتا ہے تمہارا
سینے سے کلیجہ نظر آتا ہے تمہارا
(169)
کچھ منہ سے تو بولو علی اکبر علی اکبر
آنکھوں کو تو کھولو علی اکبر علی اکبر
رخصت بھی تو ہو لو علی اکبر علی اکبر
لو باپ کو رو لو علی اکبر علی اکبر
دولہا بھی اس آرام سے سوتے نہیں بیٹا
ہم روتے ہیں اور تم نہیں روتے نہیں بیٹا
(170)
ہم آئے ہیں لو پاس ہمارا کرو بیٹا
اک آن کی تکلیف گوارا کرو بیٹا
کچھ کچھ تو میرے درد کا چارا کرو بیٹا
بُولا نہیں جاتا تو اشارہ کرو بیٹا
حوریں تمہیں گھیرے ہیں مہمان نئے ہو
باتیں ہیں یہ کس سے کہ ہمیں بھول گئے ہو
(171)
غش میں جو سنی باپ کی آواز پسر نے
بس ہاتھوں کو پھیلا دیا اس رشک-ِ-قمر نے
لپٹا لیا چھاتی سے شہ-ِ-جن-و-بشر نے
منہ کھول کے دکھلائی زباں تشنہ-جگر نے
فرمایا کہ قطرہ میرے جانی نہیں ملتا
مجبور ہوں اکبر مجھے پانی نہیں ملتا
(172)
کی عرض علی آئے ہیں یا شاہ-ِ-خوش-انجام
ہاتھوں میں ہے کوثر کے جھلکتے ہوئے دو جام
اک جام مجھے دے کے بصد شفقت-و-انعام
فرماتے ہیں پی لے اسے اکبر-ِ-گلفام
میں کہتا ہوں مجروح ہوں آوارہ-وطن ہوں
دونوں مجھے دیجے کہ بہت تشنہ-دہن ہوں
(173)
اشک آنکھوں سے ٹپکا کے یہ فرماتے ہیں حیدر
شبیر بھی پیاسا ہے بہت اے میرے دلبر
گھبرا نہ کہ نزدیک ہے اب چشمہ-ٔ-کوثر
حصہ یہ تیرے باپ کا ہے اے علی اکبر
دو دن سے اٹھائے ہیں تعب تشنہ-لبی کے
یہ تیسرا فاقہ ہے نواسے پہ نبی کے
(174)
یہ کہتے ہی آنکھوں سے بس آنسو ہوئے جاری
منہ پھیر کے دیکھا سوئے صحرا کئی باری
کی عرض حضور آتی ہے زہرا کی سواری
پھر درد اٹھا سینے میں پھر غش ہوا طاری
کھولے ہوئے آنکھوں کو مسافر ہوئے اکبر
ہچکی کا بس آنا تھا کہ آخر ہوئے اکبر
(175)
لکھا ہے کہ نکلا علی اکبر کا ادھر دم
نکلی در-ِ-خیمہ سے ادھر زینب-ِ-پُر-غم
سر ننگے تھیں پیچھے کئی سیدانیاں باہم
منہ پیٹتی تھی کوئی، کوئی کرتی تھی ماتم
ہلتا تھا فلک نالہ-و-فریاد-و-بکا سے
اک حشر تھا ہائے ہائے علی اکبر کی صدا سے
(176)
خورشید چھپا، گرد اڑی، زلزلہ آیا
اک ابر-ِ-سیاہ دشت-ِ-پُر-آشوب میں چھایا
پھیلی تھی جہاں دھوپ وہاں ہو گیا سایا
بجلی کو سیاہی میں چمکتا ہوا پایا
جو حشر کے آثار ہیں سارے نظر آئے
گرتے ہوئے مقتل میں ستارے نظر آئے
(177)
محبوب-ِ-الٰہی کے نواسی کا تھا یہ حال
سر پہ نہ ردا تھی نہ قصابہ تھا نہ رومال
کچھ چہرے پہ کچھ دوش پہ بکھرے ہوئے تھے بال
ہر گام تھی بسمل کی تڑپ زخمیوں کی چال
ٹوٹا تھا مصیبت کا فلک زار-و-قریں پر
تھی نصف ردا دوش پہ اور زلف زمیں پر
(178)
چلّاتی تھی جنگل کی مجھے راہ بتا دو
سیدانی ہوں راستہ مجھے للہ بتا دو
کس ابر میں پنہاں ہے میرا ماہ بتا دو
لاشے پہ کدھر ہو شہ-ِ-ذی-جاہ بتا دو
آنکھوں میں بصارت بھی نہیں جاؤں کدھر کو
میں پہلے پہل ڈھونڈنے نکلی ہوں پسر کو
(179)
زینب کی صدا سنتے ہی دوڑے شہ-ِ-والا
دامان-ِ-عبا فرق پہ ہمشیر کے ڈالا
فرمایا قدم خیمے سے کیوں تم نے نکالا
اے بنت-ِ-علی مر گیا وہ گیسوؤں والا
ٹکڑے ہیں بدن کشتہ-ٔ-شمشیر ہیں اکبر
دیکھو گی کسے خاک پہ اب ڈھیر ہیں اکبر
(180)
خاموش انیس آگے نہیں تاب رقم کی
شق ہوتی ہے چھاتی دم-ِ-تحریر قلم کی
کیوں کر کوئی روداد لکھے اہلِ-حرم کی
حقا کہ نہایت نہیں شبیر کے غم کی
مصروف ہر اک اشک بہانے میں رہے گا
ماتم علی اکبر کا زمانے میں رہے گا